امریکی ماہرین کا بیٹری کے بغیر پودوں کی نگرانی کا نظام
امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا اسمارٹ سینسر نظام تیار کیا ہے جو پودوں کی نشوونما اور دباؤ کی علامات بیٹری کے بغیر ریکارڈ کرتا ہے۔
اہم نکات
AIامریکہ کی تافتس یونیورسٹی کے ایک تحقیقی ٹیم نے اسمارٹ سینسر نظام تیار کیا ہے جو پودوں کی نشوونما کی نگرانی اور ان پر دباؤ کی ابتدائی علامات کا پتہ لگانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اور اس کے لیے بیٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ نظام پودے کی قدرتی نمی سے پیدا ہونے والی توانائی پر کام کرتا ہے۔
جریدہ "اے سی ایس اپلائیڈ میٹریلز" میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، یہ نظام براہ راست پودے پر نصب کیا جاتا ہے، جو ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے وائرلیس طور پر اسمارٹ فون یا کمپیوٹر تک پہنچاتا ہے، اور اس کے لیے پودے کی نمی سے حاصل ہونے والی توانائی استعمال کی جاتی ہے۔
مختلف ماحولیاتی حالات میں مرچ کے پودوں پر کی گئی تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ نظام پانی کی کمی یا مٹی میں نمکیات کی زیادتی سے متعلق تبدیلیوں کو درستگی کے ساتھ ریکارڈ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے محققین کو پودے کے اندر پانی کی حرکت کو مزید تفصیل سے جانچنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
نظام کی ساخت اور کام کرنے کا طریقہ
یہ نظام پودے کے پتوں سے بخارات کے اخراج (نتح) کے دوران پیدا ہونے والی توانائی پر انحصار کرتا ہے۔ ایک چھوٹا الیکٹرانک سرکٹ اس توانائی کو جمع کر کے نظام کو چلاتا ہے، ڈیٹا پراسیس کرتا ہے اور اسے وائرلیس طور پر اسمارٹ ایپلی کیشنز تک بھیجتا ہے۔
اس ایجاد میں دو اہم اجزاء شامل ہیں؛ ایک نہایت باریک اسمارٹ اسٹیکر جو پتے پر لگا کر درجہ حرارت اور نمی کو ماپتا ہے، اور دوسرا ایک لچکدار پٹی جو جاپانی فن 'کیریگامی' سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہے اور پودے کی شاخ کے گرد لپیٹی جاتی ہے تاکہ اس کی نشوونما اور قطر میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی کی جا سکے۔
اسی حوالے سے محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام زرعی شعبے میں اسمارٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ ہموار کرے گا، جس سے فصلوں کی نگرانی بہتر بنائی جا سکے گی، پانی کے استعمال میں کفایت آئے گی اور روایتی بیٹریوں پر انحصار کم ہو گا۔
