تحقیق: مچھر بعض انسانوں کی طرف کیوں زیادہ مائل ہوتے ہیں
امریکہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق مچھر بعض انسانوں کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جس کی دو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں: جلد کی بیکٹیریا اور جسم کی بو۔
اہم نکات
AIایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مچھر بعض انسانوں کی طرف دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مائل ہوتے ہیں۔
امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق جلد پر موجود بیکٹیریا اور جسم کی بو وہ دو اہم عوامل ہیں جن کی وجہ سے کچھ افراد کو مچھر بار بار کاٹتے ہیں جبکہ بعض کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں، جیسا کہ "روسیا ٹوڈے" نے رپورٹ کیا۔
محققین نے خوشبو کی پیمائش کے لیے سنگل پورٹ اولفیکٹومیٹر استعمال کیا۔ اس آلے کے ایک سرے پر تین مختلف اقسام کے مچھر رکھے گئے: ایڈیس ایجپٹائی (ڈینگی بخار پھیلانے والا)، ایڈیس البوپکٹس (ایشیائی ٹائیگر مچھر)، اور کوئینکوفاسکیئٹس کوئنکوفاسکیئٹس (جنوبی گھریلو مچھر)۔
رضاکاروں نے رات کے وقت اپنی بازوؤں پر نائلون کی آستینیں پہنیں تاکہ جلد کی بو جذب ہو سکے اور بعد میں اس کا تجزیہ کیا جا سکے۔
محققین نے ان افراد کا موازنہ کیا جو مختلف اقسام کے مچھروں کے لیے زیادہ یا کم پرکشش تھے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایڈیس ایجپٹائی مچھر نے مرد شرکاء کو نسبتاً زیادہ ترجیح دی۔
اسی طرح ایڈیس البوپکٹس مچھر ان افراد کی طرف زیادہ راغب ہوا جن کے جسم سے مخصوص خوشبوئیں جیسے کیٹونز خارج ہوتی تھیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جلد پر موجود بیکٹیریا پسینے اور جسم کی قدرتی چکنائی کو مخصوص خوشبوؤں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جنہیں مچھر آسانی سے محسوس کر لیتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج سے مچھر بھگانے کے لیے نئی اور جدید حکمت عملیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جن میں جلد کی بیکٹیریا میں تبدیلی یا قدرتی مرکبات کی تیاری شامل ہے، بجائے اس کے کہ روایتی کیمیائی مادوں پر انحصار کیا جائے۔
