غذائی اجزا میں عام پائے جانے والا جز سرطان کی واپسی کا سبب بن سکتا ہے
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فریکٹوز نامی شکر سرطان کے علاج کے بعد بچ جانے والی خلیات کو دوبارہ پھیلنے پر اکسا سکتی ہے۔
اہم نکات
AIایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فریکٹوز نامی سادہ شکر سرطان کے علاج کے بعد بچ جانے والی خلیات کو دوبارہ جسم میں پھیلنے کا اشارہ دیتی ہے، جو بیماری کے دوبارہ لوٹ آنے کی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار 'انڈیپنڈنٹ' کے مطابق، فریکٹوز کو عام طور پر 'پھلوں کی شکر' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر پھلوں، شہد اور بعض سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم جدید غذائی نظام میں اسے مصنوعی مٹھاس کے طور پر بڑی مقدار میں سافٹ ڈرنکس، میٹھے جوسز، مٹھائیوں، تیار شدہ کھانوں اور فاسٹ فوڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔
یہ تحقیق امریکی شہر فلاڈیلفیا کے ویسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے کی اور اسے جریدہ 'نیچر ایجنگ' میں شائع کیا گیا۔ تحقیق ovarian cancer (بیضہ دانی کے سرطان) پر کی گئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ نتائج دیگر اقسام کے سرطان پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔
سرطان کے مریض جب کیموتھراپی سے گزرتے ہیں تو تمام سرطان زدہ خلیات ختم نہیں ہوتے، کچھ خلیات بچ جاتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ یہ بچ جانے والے خلیات اگرچہ تقسیم ہونا روک دیتے ہیں، مگر حیاتیاتی طور پر فعال رہتے ہیں اور قریبی سرطان زدہ خلیات کو پھیلنے کے اشارے بھیجتے رہتے ہیں، جس سے بیماری جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ایڈن کول نے کہا، "ہماری تحقیق پہلی بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک غذائی جز یعنی فریکٹوز بھی ان اشاروں میں شامل ہو سکتا ہے۔"
تحقیق میں ان خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں بیضہ دانی کے سرطان کے لیے پلاٹینم پر مبنی کیموتھراپی دی گئی تھی۔ اگرچہ ابتدا میں علاج مؤثر ثابت ہوتا ہے، لیکن اکثر مریضات میں سرطان دوبارہ پیٹ کے اندرونی حصے میں پھیل جاتا ہے۔ کیموتھراپی کے بعد ہونے والا یہ پھیلاؤ ovarian cancer سے ہونے والی 90 فیصد اموات کا سبب بنتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوا کہ کیموتھراپی سے بچ جانے والے خلیات سے خارج ہونے والے مالیکیولز سرطان زدہ خلیات کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس اثر کو جانوروں پر بھی ثابت کیا گیا ہے، اس سے قبل صرف لیبارٹری میں ہی اس کا مشاہدہ ہوا تھا۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ کیموتھراپی کے بغیر بھی فریکٹوز کا زیادہ استعمال — جیسا کہ میٹھے مشروبات اور جوسز میں ہوتا ہے — سرطان زدہ خلیات کے پھیلاؤ کو بڑھا سکتا ہے۔
اگرچہ مریضوں پر فریکٹوز کی مقدار کم کرنے کے اثرات ابھی تک نہیں آزمائے گئے، لیکن اس تحقیق سے سرطان کی نشوونما میں غذائیت کے کردار کو سمجھنے کے نئے راستے کھلتے ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ نتائج صرف بیضہ دانی کے سرطان تک محدود نہیں، اس لیے وہ مزید تجربات کے ذریعے دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ دیگر اقسام کے سرطان پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اس سے غذائیت، کیموتھراپی اور سرطان کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ موجودہ علاج کو کیسے مزید مؤثر بنایا جائے اور بیماری کی واپسی کے امکانات کیسے کم کیے جائیں۔
