امریکی تحقیق: خواتین وکلا میں ذہنی دباؤ مردوں سے زیادہ
امریکی وکلا کی تنظیم کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین وکلا مرد ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
اہم نکات
AIامریکی وکلا کی تنظیم کے ایک سروے کے مطابق خواتین وکلا کو مرد وکلا کے مقابلے میں زیادہ اضطراب، ڈپریشن اور مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ پیشہ ورانہ اور سماجی چیلنجز، کام کی جگہ کا ماحول اور خاندانی ذمہ داریاں ہیں۔
سروے میں 2915 افراد نے حصہ لیا، جس کے نتائج کے مطابق 37 فیصد خواتین وکلا نے اضطراب کی شکایت کی، جبکہ مرد وکلا میں یہ شرح 23 فیصد رہی۔ اسی طرح 19 فیصد خواتین نے ایسے ڈپریشن کی علامات ظاہر کیں جن کے لیے طبی معائنہ ضروری تھا، جبکہ مردوں میں یہ شرح 15 فیصد تھی۔
شرکاء نے ان مسائل کی بڑی وجوہات میں اجرت کے عوض کام کے اوقات، دفاتر کی تنظیمی ساخت، صنفی امتیاز، پیشہ ورانہ و ذاتی زندگی میں توازن کی مشکلات اور خاندانی ذمہ داریوں کو قرار دیا۔
سروے کے مطابق 40 فیصد خواتین وکلا مالی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مرد وکلا میں یہ شرح 30 فیصد سے کم رہی۔ اسی طرح 36 فیصد خواتین نے نفسیاتی مسائل کا ذکر کیا، جبکہ مردوں میں یہ شرح 26 فیصد تھی۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ خواتین وکلا میں نیند کی کمی زیادہ عام ہے، جہاں 31 فیصد نے اس کا اعتراف کیا، جبکہ مرد وکلا میں یہ شرح 19 فیصد سے کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق خواتین وکلا عموماً دستیاب ذہنی صحت کی خدمات سے کم ہی استفادہ کرتی ہیں، جس کی وجہ معلومات کی رازداری، سماجی بدنامی اور اس کے ممکنہ پیشہ ورانہ اثرات کا خوف ہے۔
امریکی وکلا کی تنظیم کی خواتین کمیٹی نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے جو وکالت کے شعبے میں خواتین کے حالات پر مرکوز ہے، اور اس کے نتائج قانونی شعبے میں کام کے ماحول پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
سروے کے مرتبین نے قانونی شعبے کے اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کام کا بوجھ کم کریں، اجرتی اوقات کے نظام پر نظرثانی کریں، صنفی دباؤ سے متعلق باقاعدہ آگاہی پروگرام شروع کریں اور وکلا کے لیے خفیہ ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کریں۔
