النینو کے خطرات میں اضافہ، اقوام متحدہ کی پیشگی اقدام کی اپیل
عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ النینو کی شدت میں اضافہ جاری ہے اور اگست تا اکتوبر 2026 کے دوران یہ عالمی موسمی پیٹرن پر غالب رہے گی۔
اہم نکات
AIعالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ النینو کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ اگست سے اکتوبر 2026 کے دوران یہ عالمی موسمی پیٹرن پر غالب رہے گی، جس سے دنیا کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ اور بارشوں کے انداز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اقوام متحدہ کے میڈیا سینٹر کے مطابق، ادارے نے اپنے ماہانہ موسمیاتی جائزے میں بتایا کہ اس وقت النینو کی تشکیل جاری ہے، جبکہ عالمی سمندروں کا غیرمعمولی درجہ حرارت اور بحر ہند میں مثبت دو قطبی رجحان کا امکان بھی موجود ہے، جو آئندہ مہینوں میں دنیا کے کئی علاقوں کے موسم پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ النینو اب محض عارضی مظہر نہیں رہی، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جسے ہم اپنی زمین پر واقعتاً محسوس کر رہے ہیں اور یہ درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی شدت بڑھ رہی ہے، جو پہلے سے گرم زمین پر شدید حرارتی گنبد، تباہ کن جنگلاتی آگ اور ریکارڈ حد تک گرم سمندروں کا باعث بن رہی ہے، جبکہ فوسل فیول اس بحران کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
سیکریٹری جنرل نے فوسل فیول کے استعمال میں توسیع روکنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کوئلہ، تیل اور گیس پر بڑھتا انحصار مستقبل کو مزید خطرناک بنا دے گا۔ ان کا کہنا تھا: "اگر ہم نے لوگوں کے تحفظ اور بحران کی بنیادی وجوہات کے حل کے لیے بروقت اقدام نہ کیا تو خطرات مزید مہلک ہو جائیں گے۔ پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے، اور ہم اہم واقعہ کے رونما ہونے تک انتظار نہیں کر سکتے۔"
واضح رہے کہ النینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت وقفے وقفے سے بڑھ جاتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے موسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی نیا مظہر نہیں اور نہ ہی براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی اس کے اثرات کو مزید شدید کر سکتی ہے، جبکہ اس کے اثرات مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔
