عطور براہ راست الرجی یا دمہ کا سبب نہیں بنتیں: ماہر
ڈاکٹر محمد الشهرانی نے کہا ہے کہ عطور براہ راست الرجی، دمہ یا ناک کی سوزش کا سبب نہیں بنتیں، تاہم حساس افراد میں علامات کو ابھار سکتی ہیں۔
اہم نکات
AIامراض سینہ اور اندرونی بیماریوں کے ماہر، ڈاکٹر محمد الشهرانی نے واضح کیا ہے کہ عطور براہ راست دمہ، الرجی یا ناک کی سوزش کا سبب نہیں بنتیں، تاہم وہ ان افراد میں علامات کو ابھار سکتی ہیں جن میں ان بیماریوں کا رجحان یا سابقہ طبی تاریخ موجود ہو۔
ڈاکٹر الشهرانی نے ریڈیو 'العربیہ ایف ایم' سے گفتگو میں کہا کہ عطور الرجی یا دمہ کو 'صفر' سے پیدا نہیں کرتیں، لیکن وہ ایسے افراد میں کھانسی، سیٹی نما سانس، سانس کی تنگی، چھینک اور ناک بند ہونے جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں جو پہلے ہی الرجی یا اس کے لیے جینیاتی طور پر مائل ہوں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ الرجی اور جلن میں فرق ہے۔ الرجی دراصل کسی مخصوص مادے کے خلاف جسم کا مدافعتی ردعمل ہے، جبکہ جلن تیز خوشبو کے براہ راست اثر سے ہوتی ہے اور اس سے ناک میں جلن، کھانسی یا سر درد جیسی علامات بعض ایسے افراد میں بھی ہو سکتی ہیں جنہیں الرجی نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ عطر کی کوالٹی بھی اثرات پر اثرانداز ہوتی ہے۔ کم معیار یا نامعلوم اجزا والے عطور جلن کے امکانات بڑھا سکتے ہیں، تاہم سب سے زیادہ متاثر وہی افراد ہوتے ہیں جو دمہ یا الرجی کے مریض ہوں۔
ایکس پر اصل پوسٹ دیکھیں
انہوں نے مزید کہا کہ عطور ناک کی سوزش یا انفیکشن کا سبب نہیں بنتیں، البتہ پہلے سے حساس افراد میں ناک کی سوزش یا بندش کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر فرد کی خوشبوؤں کے لیے حساسیت اس کی صحت اور جسمانی ساخت پر منحصر ہے۔
