روزانہ احتیاطی تدابیر متعدی امراض سے بچاؤ کی پہلی دفاعی لائن
ڈاکٹر سحر الغضیہ نے کہا ہے کہ متعدی امراض سے بچاؤ صرف صحت کے شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی روزمرہ عادات سے شروع ہوتا ہے۔
اہم نکات
AIڈاکٹر سحر الغضیہ، ماہر متعدی امراض، نے کہا ہے کہ متعدی امراض سے بچاؤ صرف صحت کے شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کا آغاز ہر فرد کے شعور اور صحت مند عادات اپنانے سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہر درست عمل نہ صرف خاندان بلکہ پورے معاشرے کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روزانہ صحت بخش رویوں پر عمل کرنا انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ڈاکٹر سحر نے بتایا کہ ہاتھوں کو مناسب وقت تک پانی اور صابن سے دھونا، خاص طور پر کھانے سے پہلے، بیت الخلا کے استعمال کے بعد یا مشترکہ سطحوں کو چھونے کے بعد، سب سے مؤثر حفاظتی تدابیر میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے وقت سینیٹائزر کا استعمال اور ہاتھ دھوئے بغیر آنکھ، ناک یا منہ کو نہ چھونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی اشیاء جیسے تولیے، پانی پینے کے گلاس اور ذاتی نگہداشت کے سامان کو مشترکہ طور پر استعمال کرنا بعض بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ہر فرد کے لیے الگ اشیاء مختص کرنا اور گھروں و دفاتر میں زیادہ استعمال ہونے والی سطحوں کی صفائی اور جراثیم کشی پر توجہ دینا چاہیے۔
انہوں نے کھانسی اور چھینک کے آداب پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، یعنی منہ اور ناک کو ٹشو یا کہنی سے ڈھانپنا، استعمال شدہ ٹشو کو مناسب طریقے سے تلف کرنا اور فوراً ہاتھ دھونا، تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ڈاکٹر سحر الغضیہ نے نشاندہی کی کہ بیماری کی علامات جیسے بخار، مسلسل کھانسی، قے یا اسہال کو نظر انداز کرنا دوسروں تک بیماری منتقل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بیماری کی صورت میں گھر پر قیام اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا معاشرے کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ ویکسین لگوانا، متوازن غذا لینا، مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی اپنانا جسمانی مدافعت کو مضبوط بناتا اور متعدی امراض کے امکانات کم کرتا ہے۔
ڈاکٹر سحر نے خوراک کی حفاظت پر بھی زور دیا، یعنی کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا، گوشت اور مرغی کو اچھی طرح پکانا، سبزیوں اور پھلوں کو کھانے سے پہلے دھونا اور غیر محفوظ یا نامعلوم ذرائع سے آنے والی خوراک سے اجتناب کرنا۔
انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا صحت عامہ کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے معاشرے کے افراد پر زور دیا کہ وہ احتیاط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ اس سے نہ صرف بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے بلکہ معیارِ زندگی بھی بہتر ہوتا ہے۔
