مواد پر جائیں
اتوار، 26 جولائی، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
طرز زندگی

روزانہ کی ایک عادت جو یادداشت کمزور کرتی ہے

حالیہ مطالعات کے مطابق اسمارٹ فونز پر حد سے زیادہ انحصار یادداشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور 'ڈیجیٹل امینیشیا' کا باعث بن سکتا ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 3 منٹ مطالعہ
اسمارٹ فون اور انسانی یادداشت کا تعلق

اہم نکات

AI

حالیہ مطالعات نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فونز پر حد سے زیادہ انحصار انسان کی یادداشت کے استعمال کے طریقے پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جسے 'ڈیجیٹل امینیشیا' کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان معلومات محفوظ کرنے کے لیے اپنے دماغ کے بجائے الیکٹرانک آلات پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار 'گارڈین' نے رپورٹ کی ہے۔

آج اسمارٹ فون کروڑوں افراد کے لیے ایک اضافی یادداشت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو فون نمبرز، شیڈولز، کاموں کی فہرست اور روزمرہ معلومات محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے باعث اب لوگ پہلے کی طرح تفصیلات یاد رکھنے کی ضرورت کم محسوس کرتے ہیں۔

نفسیات دانوں کے مطابق یہ تبدیلی لازمی طور پر دماغی صلاحیتوں میں کمی کی علامت نہیں، بلکہ معلومات کے ساتھ برتاؤ کے انداز میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ اب انسان معلومات اپنے دماغ میں محفوظ کرنے کے بجائے انہیں آلات سے دوبارہ حاصل کرنے پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز یادداشت کو مستقل طور پر کمزور نہیں کرتے، لیکن ان پر مکمل انحصار کرنے سے یادداشت اور معلومات واپس لانے جیسی ذہنی مہارتیں کم استعمال ہوتی ہیں، جنہیں مؤثر رکھنے کے لیے مسلسل مشق ضروری ہے۔

سن 2011 میں جریدہ 'سائنس' میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کولمبیا اور ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ جب شرکاء کو معلوم ہو کہ وہ معلومات بعد میں انٹرنیٹ پر حاصل کر سکتے ہیں تو وہ انہیں یاد رکھنے کی کوشش کم کرتے ہیں، البتہ انہیں یہ بہتر یاد رہتا ہے کہ معلومات کہاں دستیاب ہیں۔

محققین کے مطابق یادداشت کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کوئی نئی بات نہیں، لیکن اسمارٹ فونز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب رہتے ہیں اور ذاتی معلومات کا بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں، اس لیے یہ انسان کے ساتھ ہر جگہ ایک اضافی یادداشت کی طرح موجود رہتے ہیں۔

نیویگیشن ایپس کا یادداشت پر اثر

جریدہ 'سائنٹیفک رپورٹس' میں شائع ایک تحقیق کے مطابق بار بار ڈیجیٹل نیویگیشن سسٹمز جیسے 'گوگل میپس' پر انحصار قدرتی نیویگیشن کی مہارتوں کے کم استعمال سے جڑا ہے۔ ایسے افراد جو جی پی ایس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جب انہیں صرف اپنی یادداشت پر بھروسہ کرنا پڑے تو وہ نیویگیشن کے بعض کاموں میں کمزور کارکردگی دکھاتے ہیں۔

اسی حوالے سے برطانوی سائنسدان ایلیانور میگوائر کی لندن کے ٹیکسی ڈرائیورز پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیویگیشن کی مسلسل مشق دماغ کے ہپوکیمپس حصے میں تبدیلیوں سے جڑی ہے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ دماغ ان مہارتوں کے مطابق بدلتا ہے جنہیں بار بار استعمال کیا جائے۔

نوٹیفکیشنز کا خطرہ اور توجہ کی تقسیم

اسمارٹ فونز کا اثر صرف معلومات محفوظ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ استعمال کے طریقے پر بھی پڑتا ہے۔ مسلسل نوٹیفکیشنز اور ایپس کے درمیان تیز رفتاری سے منتقل ہونا توجہ کو منتشر کر سکتا ہے اور دماغ کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جو مضبوط یادیں بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

تبصرے (0)