جنگلاتی آگ کے خطرات صرف مقام تک محدود نہیں، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جنگلاتی آگ کا دھواں سرحدوں سے پار ہو کر دور دراز علاقوں میں بھی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اہم نکات
AIعالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جنگلاتی آگ کے خطرات صرف ان کے مقام تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کا دھواں مختلف ممالک اور براعظموں تک پھیل سکتا ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں بھی ہوا کے معیار میں کمی اور آبادی کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، جنگلاتی آگ کے دھویں میں ایسی گیسیں اور باریک ذرات شامل ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور خون کی نالیوں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے کھانسی، آنکھوں اور گلے میں جلن، سر درد اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، جبکہ دمہ، دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ادارے نے مزید بتایا کہ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین، معذور افراد اور ایمرجنسی سروسز یا کھلی جگہوں پر کام کرنے والے افراد ان آلودگیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور خشک سالی کی شدت بھی جنگلاتی آگ کے واقعات اور ان کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہوا کے معیار سے متعلق انتباہات پر عمل کریں، دھویں کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، گھروں کے اندر ہوا کو صاف رکھنے کا اہتمام کریں اور اگر دھویں سے متعلق کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
