چالیس سال کے بعد غذائی عادات میں بہتری عمر بڑھا سکتی ہے
حالیہ تحقیق کے مطابق چالیس سال کے بعد خوراک میں بہتری لانے سے انسان کی عمر میں کئی سال کا اضافہ ممکن ہے۔
اہم نکات
AIحالیہ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ چالیس سال کی عمر کے بعد غذائی نظام میں بہتری لانا عمر میں کئی سال کا اضافہ کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق برطانوی بایو بینک پروگرام میں شامل ایک لاکھ تین ہزار افراد کے نتائج کے تجزیے پر مبنی ہے، جس میں مخصوص غذائی عادات کے اثرات میں نمایاں فرق سامنے آیا، جیسا کہ 'روسیا ٹوڈے' نے رپورٹ کیا۔
ایسا غذائی نظام جو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے، مردوں میں طویل العمری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ صحت بخش غذائی ماڈلز میں سبزیوں، پھلوں، مکمل اناج، دالوں، خشک میوہ جات اور غیر سیر شدہ چکنائیوں کا زیادہ استعمال شامل ہے، جبکہ شکر سے بھرپور اشیا، پراسیسڈ گوشت اور دیگر کم فائدہ مند اجزا کا استعمال کم کرنا چاہیے۔
تاہم، محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی، اس لیے یہ براہ راست یہ ثابت نہیں کرتی کہ غذائی تبدیلیاں عمر میں اضافہ کرتی ہیں، البتہ نتائج سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اچھی خوراک اور عمر کے درمیان تعلق موجود ہے، چاہے جینیاتی عوامل کچھ بھی ہوں۔
