برطانیہ میں مصنوعی ذہانت پر عوامی تشویش میں اضافہ
ایک نئی تحقیق کے مطابق برطانوی شہریوں میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور 42 فیصد نے چیٹ بوٹس کا استعمال کم کر دیا ہے۔
اہم نکات
AIکنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیجیٹل فیوچر اور برطانیہ کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس آرگنائزیشن کی حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ برطانوی شہریوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً ڈیٹا کی پرائیویسی اور سکیورٹی کے حوالے سے۔
اس سروے میں دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا، جن میں سے 42 فیصد نے بتایا کہ وہ چیٹ بوٹس کے استعمال میں کمی لا چکے ہیں، جبکہ نصف سے زائد شرکاء نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ڈیٹا پرائیویسی اور قوانین پر عمل درآمد سے متعلق خدشات ہیں، جبکہ کچھ افراد روایتی طریقہ کار کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایسے افراد کی شرح جو سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اس کے فوائد سے بڑھ کر ہیں، 52 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں چار پوائنٹس زیادہ ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کی شرح کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے۔
محققین کے مطابق بہت سے شرکاء اس وجہ سے بھی غیر مطمئن ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بچنا مشکل یا ناممکن ہو گیا ہے، اور اکثریت کا خیال ہے کہ چاہیں بھی تو اس سے بچنا آسان نہیں۔
تحقیقی ٹیم نے واضح کیا کہ جو افراد مصنوعی ذہانت استعمال نہیں کرنا چاہتے، ان کے پاس مطلوبہ مہارتیں موجود ہیں، مگر وہ ذاتی سکون اور پرائیویسی کے پیش نظر اس سے گریز کرتے ہیں۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اضافے کے باوجود بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے عہدیدار عوامی جوش میں کمی کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔
کنگز کالج لندن کے جیک اسٹیلگو نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حامی بھی اب اس کے استعمال میں زیادہ محتاط اور متردد ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، کیٹ ڈیولن نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کب اور کیسے مصنوعی ذہانت استعمال کریں اور جب چاہیں اس سے دستبردار ہو سکیں۔
