یونیسکو نے 25 نئے مقامات کو عالمی ورثہ میں شامل کر لیا
یونیسکو نے 25 نئے مقامات کو عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا، جس کے بعد اب یہ تعداد 1273 ہو گئی ہے، جو 173 ممالک میں پھیلے ہیں۔
اہم نکات
AIاقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے 25 نئے مقامات کو عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جس کے بعد عالمی ورثہ کے مقامات کی مجموعی تعداد 1273 ہو گئی ہے، جو 173 ممالک میں واقع ہیں۔
یہ اعلان یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی کے 48ویں اجلاس کے دوران کیا گیا، جو جنوبی کوریا کے ساحلی شہر بوسان کے بیسکو کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوا۔
نئے شامل کیے گئے مقامات میں جاپان کے "اسوکا-فوجیوارا: قدیم جاپانی دارالحکومتوں کے آثار اور متعلقہ املاک" شامل ہیں، جن میں اسوکا دور کے متعدد آثار شامل ہیں۔ اسی طرح شمال مغربی فرانس میں "نورمانڈی کے ڈی ڈے لینڈنگ بیچز، 1944" بھی شامل کیے گئے ہیں، جہاں اتحادی افواج کی لینڈنگ نے دوسری عالمی جنگ کا رخ بدل دیا تھا۔
جنوبی کوریا کو اس بار اپنی ساحلی دلدلی زمینوں، جنہیں "گیتبول" کہا جاتا ہے اور جو 2021 میں عالمی ورثہ میں شامل ہوئی تھیں، کی حدود بڑھانے کی منظوری ملی ہے۔ اس میں مغربی اور جنوبی ساحلوں کی مزید دلدلی زمینیں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دو مقامات کی حدود میں توسیع اور ایک کیس میں معیار میں تبدیلی کی گئی۔
کمیٹی نے 148 مقامات کے تحفظ کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ان میں سے چھ کو خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا، جن میں لبنان کا قدیم شہر صور اور سورینام کا تاریخی شہر باراماریبو شامل ہیں، جنہیں اپنی سالمیت کو لاحق خطرات کا سامنا ہے۔
ایک متنازع فیصلے میں، مندوبین نے "ویانا کے تاریخی مرکز" کو خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست سے نکالنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس پر طویل بحث ہوئی، جس میں شہری ترقی اور شہر کے تاریخی و ثقافتی منظرنامے کے تحفظ کے درمیان کشیدگی کا ذکر کیا گیا۔ اس فیصلے پر بعض ماہرین اور وفود نے شدید تنقید کی۔
عالمی ورثہ کمیٹی کا اگلا اجلاس استنبول میں ہوگا اور روایتی طور پر ترکی آئندہ سال کمیٹی کی صدارت سنبھالے گی، جبکہ آرمینیا، گریناڈا، ویتنام، تنزانیہ اور کویت کو نائب صدور منتخب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی نے اس سے قبل جولائی 2016 میں استنبول میں چالیسواں اجلاس منعقد کیا تھا، جو فوجی بغاوت کی کوشش کے باعث تعطل کا شکار ہوا تھا اور بعد میں تین ماہ بعد پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹر میں دوبارہ شروع کیا گیا۔
