مکہ مکرمہ: یمنی مقیم کو قتل کے جرم میں سزائے موت
وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک یمنی شہری کو قتل کے جرم میں قصاص کی سزا دی گئی ہے۔
اہم نکات
AIوزارت داخلہ نے آج ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مکہ مکرمہ میں ایک مجرم کو قتل کے جرم میں قصاص کی سزا دیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق، زیاد ولید محمد عبداللہ حیدرہ (یمنی شہری) نے نسیم محمد محمد ردمان قائد (یمنی شہری) کو آپسی جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے سے سر پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔
اللہ کے فضل سے سکیورٹی اداروں نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد اس پر جرم ثابت ہوا اور اسے متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس کے خلاف قصاص کی سزا سنائی گئی۔ اپیل اور سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد شاہی فرمان کے تحت شرعی حکم پر عمل درآمد کیا گیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ قصاص کی سزا بدھ کے روز 20 ربیع الاول 1448ھ بمطابق 2 ستمبر 2026 کو مکہ مکرمہ میں نافذ کی گئی۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سعودی حکومت امن و امان کے قیام، عدل کی فراہمی اور شریعت کے مطابق سزاؤں کے نفاذ کے لیے پُرعزم ہے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ جو بھی شہریوں کی جان و مال پر حملہ کرے گا، اس کے ساتھ شرعی سزا کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
