نیوم میں دھاری دار لکڑبگھے کی پہلی پیدائش، مرکز کی دستاویز
مرکز برائے تحفظ فطری حیات اور نیوم نے نیوم قدرتی محفوظ علاقے میں چار دھاری دار لکڑبگھوں کی دوبارہ آبادکاری کے بعد ان کی پہلی پیدائش کا کامیاب اندراج کیا ہے۔
اہم نکات
AIمرکز برائے تحفظ فطری حیات نے نیوم کے تعاون سے نیوم قدرتی محفوظ علاقے میں چار دھاری دار لکڑبگھوں کی دوبارہ آبادکاری کے بعد ان کی پہلی پیدائش کو دستاویزی شکل دی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جانور محفوظ علاقے کے ماحول سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور جنگل میں افزائش نسل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدام مرکز کے ان پروگراموں کا حصہ ہے جن کا مقصد فطری انواع کی افزائش اور دوبارہ آبادکاری ہے، جن میں شکاری جانور بھی شامل ہیں، تاکہ وہ ماحولیاتی نظام میں اپنا قدرتی کردار دوبارہ ادا کر سکیں۔
اس سے قبل دو جوڑوں کا انتخاب کیا گیا اور انہیں مرکز کے شیلٹر میں رہائی سے پہلے خصوصی نگہداشت اور تربیت فراہم کی گئی، جس میں طبی معائنہ، صحت کی نگرانی اور قدرتی ماحول میں منتقلی کی تیاری شامل تھی۔ مرکز کی ماہر ٹیم نے دوبارہ آبادکاری کی جگہ کا فیلڈ سروے بھی کیا تاکہ اس کی تیاری اور ماحولیاتی مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔
نومبر 2025 میں، لکڑبگھوں کو مرکز کی ویٹرنری ٹیموں کی نگرانی میں نیوم قدرتی محفوظ علاقے میں منتقل کیا گیا اور انہیں مخصوص مقامات پر چھوڑا گیا۔ ان کی مسلسل نگرانی کالر ٹریکنگ، فیلڈ کیمروں اور زمینی مشاہدے کے ذریعے کی گئی، جبکہ مرکز اور نیوم کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کے تحت قدرتی خوراک کی فراہمی کا انتظام بھی کیا گیا تاکہ لکڑبگھوں کے قدرتی رویے کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں نئے ماحول سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
نگرانی کے عمل کے دوران، ٹیموں نے اگست 2026 میں پہلی بار مادہ لکڑبگھے کو اپنے بچے کے ساتھ بل سے باہر آتے ہوئے ریکارڈ کیا۔ مادہ نے بچے کی دیکھ بھال اور حفاظت میں قدرتی رویہ دکھایا، جبکہ بچہ صحت مند ہے اور ماہرین اس کی حالت اور نشوونما کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
مرکز برائے تحفظ فطری حیات کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد علی قربان نے وضاحت کی کہ دوبارہ آبادکاری کے بعد دھاری دار لکڑبگھے کی پہلی پیدائش کا اندراج فطری انواع کی افزائش اور دوبارہ آبادکاری کے پروگراموں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی سائنسی بنیادوں پر کیے گئے مربوط اقدامات کا نتیجہ ہے، جو افزائش اور تربیت سے لے کر ماحولیاتی جائزے، موزوں مقامات کے انتخاب اور رہائی کے بعد مسلسل نگرانی تک محیط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوم کے ساتھ تعاون انواع کے تحفظ اور افزائش کے لیے بڑے منصوبوں کے ساتھ سائنسی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز نے انسانی نگرانی میں دھاری دار لکڑبگھے کی افزائش میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس کے مراکز میں کئی بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انواع کی قدرتی مسکن میں دوبارہ آبادکاری ایک اہم مرحلہ ہے، جس سے جنگل میں پائیدار اور افزائش کے قابل آبادیوں کی تشکیل اور ماحولیاتی نظام میں ان کے کردار کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
دھاری دار لکڑبگھا مردار اور جانوروں کی باقیات کھا کر ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس کی آبادی بعض علاقوں میں شکار اور زہر خورانی جیسے خطرات کے باعث کم ہو گئی ہے۔ مرکز فطری انواع کی افزائش اور دوبارہ آبادکاری کے پروگرام سائنسی بنیادوں پر جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں تربیت، ویٹرنری نگہداشت، مسکن کا جائزہ اور رہائی کے بعد نگرانی شامل ہے۔ یہ اقدامات ماحولیاتی شراکت داروں اور بڑے منصوبوں کے تعاون سے کیے جا رہے ہیں، تاکہ مملکت میں فطری انواع کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
