نامعلوم اوقاف کی اطلاع دینے والے کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ریال انعام
سعودی اوقاف اتھارٹی نے نامعلوم اوقاف کی اطلاع دینے پر زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد یا ایک کروڑ سعودی ریال تک انعام مقرر کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی جنرل اتھارٹی برائے اوقاف نے نامعلوم اوقاف کی اطلاع دینے والے کے لیے انعام کی حد زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد یا ایک کروڑ سعودی ریال مقرر کی ہے۔ یہ اقدام نامعلوم اور معطل اوقاف کے احیاء کے لیے جاری کردہ ضوابط کے تحت کیا گیا ہے، جن کا مقصد ان اوقاف کے مسائل حل کرنا، واقفین کی شرائط پوری کرنا اور مملکت میں ان کی پائیداری و ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
ضوابط کے مطابق، اتھارٹی نامعلوم اور معطل اوقاف کی نشاندہی عوامی اطلاعات، سرکاری و عدالتی اداروں سے معلومات کے حصول یا مختلف اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کے ذریعے کر سکتی ہے۔
نامعلوم اور معطل وقف کی تعریف
ضوابط میں نامعلوم وقف کو وہ وقف یا وصیت قرار دیا گیا ہے جس کا مصرف معطل ہو اور اس پر ایسی صورتیں لاگو ہوں جیسے ناظر کا نہ ہونا، وقفیت کا چھپایا جانا، یا ناظر کو وقف کی جگہ یا اس کے دستاویزات کا علم نہ ہونا۔ معطل وقف وہ ہے جس کا ناظر تو موجود ہو لیکن اس کی آمدنی دو برس تک مکمل طور پر معطل رہے، یا واقف کی شرط کے مطابق اس سے براہ راست فائدہ اٹھانا دو سال تک ممکن نہ رہے۔
مفاد رکھنے والا شخص نامعلوم وقف کی تلاش یا اس کے مقام کے تعین کے لیے درخواست دے سکتا ہے، نیز وہ معطل وقف کے احیاء اور اس کی ترقی کے لیے اتھارٹی سے مدد بھی طلب کر سکتا ہے۔
اطلاع کی قبولیت اور انعام کی ادائیگی کا طریقہ کار
ضوابط کے مطابق، نامعلوم وقف کی اطلاع اسی صورت قبول کی جائے گی جب وہ اتھارٹی کے علم میں نہ ہو، معتبر دستاویزات کے ساتھ دی جائے، اتھارٹی کی ویب سائٹ یا مقررہ ذرائع سے جمع کرائی جائے، اور اس پر پہلے سے کوئی اطلاع نہ ہو، سوائے اس کے کہ بعد کی اطلاع مسئلے کے حل میں معاون ہو۔ مزید یہ کہ وقف کی نظارت یا اس کے اثبات یا استحقاق سے متعلق کوئی مقدمہ زیر سماعت نہ ہو۔
اطلاع دینے والے کو انعام اسی صورت ملے گا جب وہ وقف کا ناظر یا اس پر قابض نہ ہو اور ضوابط کی تمام شرائط پوری کرے۔ انعام کی مقدار اوقاف کی کمیٹی طے کرے گی، جس میں دستاویزات کی مضبوطی، کوشش اور وقف کے مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
اگر ایک سے زیادہ افراد نے اطلاع دی ہو تو ترجیح پہلے اطلاع دینے والے کو دی جائے گی، سوائے اس کے کہ بعد کی اطلاع مسئلے کے حل میں مؤثر ہو۔ کمیٹی چاہے تو متعدد افراد یا معاونین کو بھی انعام میں شامل کر سکتی ہے۔
معطل اوقاف کی بحالی کا طریقہ کار
ماہر اقتصادیات احمد الشہری کے مطابق، ضوابط کے تحت ناظروں کو اپنے زیر انتظام معطل اوقاف کی بحالی کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران ان اوقاف کے بارے میں کوئی اطلاع قبول نہیں کی جائے گی۔ مہلت ختم ہونے پر اتھارٹی خود یا کسی اور ادارے کے ذریعے ان اوقاف کی بحالی کا عمل سنبھالے گی۔
احمد الشہری نے مزید بتایا کہ ضوابط کا اطلاق نامعلوم یا معطل وقف یا وصیت پر ہوتا ہے، چاہے وہ جائیداد ہو، منقولہ اثاثہ ہو یا کوئی اور چیز، اور بعض ایسی اطلاعات پر بھی ہوگا جو ان ضوابط کے نفاذ سے قبل دی گئی ہوں، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط پر پوری اتریں۔
انہوں نے کہا کہ ناظر وقف، متعلقہ عدالت کی اجازت سے، وقف کی بحالی کے لیے اس کی آمدنی یا اثاثوں یا تیسرے فریق کی ضمانت پر قرض لے سکتا ہے، جس میں اتھارٹی بھی مالی معاونت فراہم کر سکتی ہے۔ اگر آمدنی ناکافی ہو یا دیگر ذرائع میسر نہ ہوں تو وقف کے ایک حصے کی فروخت سے باقی حصے کی تعمیر بھی ممکن ہے۔
