بحری اتحاد علاقائی و عالمی بحری سلامتی میں سعودی کردار کی عکاسی کرتا ہے
عسکری تجزیہ کار عبد اللہ القحطانی نے کہا ہے کہ کثیر القومی بحری اتحاد سعودی عرب کی عالمی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اہم نکات
AI
عسکری اور اسٹریٹجک امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر عبد اللہ القحطانی نے کہا ہے کہ کثیر القومی بحری اتحاد سعودی عرب کی جانب سے عالمی امن و استحکام کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے ساتھ ساتھ بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں کہا کہ اس اتحاد کی اہمیت بحر احمر، خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اسٹریٹجک حیثیت سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ یہ بحری راستے عالمی تجارت اور معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اتحاد کی قیادت اور اس کے مستقل ہیڈکوارٹر کی میزبانی، علاقائی اور عالمی سلامتی کے فروغ میں اس کے قائدانہ کردار اور بحری راستوں کے تحفظ میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اتحاد بحری خطرات اور چیلنجز کے جواب میں تشکیل دیا گیا ہے اور یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رکن ممالک اس امر پر متفق ہیں کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون ضروری ہے۔
