ریاض میں شامی مقیم کو منشیات اسمگلنگ پر سزائے موت
وزارت داخلہ نے ریاض میں ایک شامی شہری کو منشیات اسمگلنگ کے جرم میں سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔
اہم نکات
AIوزارت داخلہ نے آج ایک بیان میں ریاض ریجن میں ایک مجرم کو تعزیری طور پر سزائے موت دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کی اطلاع دی ہے۔
بیان کے مطابق، فرج محمد الاحمد (شامی شہری) نے نشہ آور ایمفیٹامین گولیاں وصول کیں اور انہیں فروخت کرنے کا ارادہ کیا۔ سکیورٹی اداروں نے اللہ کے فضل سے ملزم کو گرفتار کیا اور تحقیقات کے بعد اس پر جرم ثابت ہوا۔ مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھیجا گیا جہاں اس کے خلاف جرم ثابت ہونے پر تعزیری سزائے موت سنائی گئی۔ اپیل کے بعد یہ فیصلہ حتمی قرار پایا اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کی، جس کے بعد شاہی فرمان کے تحت اس فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔
مجرم فرج محمد الاحمد (شامی شہری) کو تعزیری سزائے موت جمعرات 16 صفر 1448ھ، بمطابق 30 جولائی 2026ء کو ریاض ریجن میں دی گئی۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس اعلان کا مقصد شہریوں اور مقیم افراد کو منشیات کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ وزارت نے کہا کہ منشیات اسمگل کرنے اور پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین سزائیں دی جائیں گی کیونکہ یہ معصوم جانوں کے ضیاع، افراد اور معاشرے میں بگاڑ اور حقوق کی پامالی کا سبب بنتی ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس جرم کے مرتکب افراد کو شرعی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
