خلیجی ممالک اور اردن کا مشترکہ بیان: ایرانی حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی
خلیجی تعاون کونسل اور اردن نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سمیت متاثرہ ممالک سے مکمل یکجہتی اور دفاع کے حق کا اعادہ کیا ہے۔
اہم نکات
AIخلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اور اردن نے اپنے مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے حامی گروہوں کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ موقف کونسل کے وزارتی اجلاسوں، عرب لیگ کے وزرائے خارجہ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (2026) کی روشنی میں اختیار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان ممالک کی سرزمین، شہریوں اور سول انفراسٹرکچر پر حملے 28 فروری 2026 سے مسلسل جاری ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون 2026 کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد یہ حملے خاص طور پر بحرین، کویت اور اردن پر تیز ہوئے ہیں، جن میں توانائی کے منصوبے، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور دیگر سول تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان ساتوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ مسلسل حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے عالمی قوانین، سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) اور ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اپنی خودمختاری، سرزمین، شہریوں، تجارتی جہازوں اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ساتوں ممالک نے عراقی وزیراعظم کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت 30 ستمبر 2026 تک ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں ہوگا۔ ساتھ ہی عراق میں حکومت کی جانب سے ایران نواز گروہوں کی مسلح کارروائیوں کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا بھی اظہار کیا گیا۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایرانی حملے رکوانے کے لیے قرارداد منظور کرے، متاثرہ ممالک کے دفاع کے حق کو تسلیم کرے اور اگر یہ حملے نہ رکے تو مزید اقدامات پر غور کرے۔
ساتوں ممالک نے اپنی مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تیاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ انہوں نے اپنے شہریوں کے حوصلے اور اتحاد کی بھی تعریف کی، جو ان چیلنجز کے مقابلے میں اپنے وطن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
بیان میں خلیجی ممالک اور اردن نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی کی آزادی اور سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام ممالک اور بین الاقوامی سمندری تنظیم کے ساتھ مل کر مستقل انتظامات کے لیے تیار ہیں، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت ہوں اور علاقائی خودمختاری و حسن ہمسائیگی کے اصولوں کے مطابق ہوں۔
آخر میں، ان ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام جائز اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی سعودی عرب اور سلطنت عمان کی جانب سے یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور سعودی عرب کی جانب سے یمن کو دی جانے والی انسانی و ترقیاتی امداد کو بھی سراہا گیا۔
