سعودی عرب میں 61 فیصد افراد روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
جامعہ شقراء کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد بن حمدان السلمی کے مطابق سعودی عرب میں 61 فیصد افراد روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
اہم نکات
AIجامعہ شقراء کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد بن حمدان السلمی نے کہا ہے کہ سعودی معاشرے کے 61 فیصد افراد کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔
ڈاکٹر السلمی نے "العربیہ ایف ایم" پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اب مملکت میں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، جہاں سہولیات اور مضبوط انفراسٹرکچر کی بدولت اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں انٹرنیٹ کے روزانہ استعمال کی قدر و قیمت اور اس کے اثرات اہمیت رکھتے ہیں، خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو تحقیق، آئیڈیاز کی تخلیق، تعلیم اور کاروباری امور کی انجام دہی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر السلمی نے مزید کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت اور اس کے روزمرہ اور پیشہ ورانہ زندگی میں کردار سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے قومی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس حوالے سے سرکاری ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، نیز مصنوعی ذہانت کے مراکز کے لیے خصوصی ٹولز تیار کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز اپنانے کی شرح 45.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جیسا کہ کمیونیکیشن، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی اتھارٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 99.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو "انٹرنیٹ سعودی عرب 2025" رپورٹ کے مطابق ہے، جس میں مملکت میں ڈیجیٹل ایپلیکیشنز اور سروسز کے استعمال کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ایکس پر مکمل پوسٹ دیکھیں
