سعودی عرب کا پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدامات میں اضافہ
سعودی عرب نے مرکزِ شاہ سلمان برائے امداد کے ذریعے پولیو کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری اور منصوبوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب عالمی سطح پر صحت کے شعبے کی معاونت اور وبائی امراض کے خاتمے میں اپنی قیادت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مرکز شاہ سلمان برائے امداد و انسانی خدمات ہر سال 24 اکتوبر کو عالمی یوم پولیو کے موقع پر اپنی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔
مملکت نے پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین کی فراہمی، صحت سے متعلق آگاہی مہمات اور ضرورت مند ممالک کو طبی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جو متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے تحت جاری ہیں۔
سعودی عرب نے مرکز کے ذریعے 15 منصوبے مکمل کیے ہیں جن کی مالیت 521 ملین امریکی ڈالر سے زائد ہے، یہ منصوبے مختلف ممالک میں مملکت کی سرحد پار انسانی ہمدردی کے وژن کے تحت انجام دیے گئے۔
سال 2025 میں مرکز شاہ سلمان نے عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے ساتھ دو معاہدے کیے، جن کے تحت 500 ملین ڈالر فراہم کیے گئے تاکہ ہر سال 370 ملین بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان میں سے 300 ملین ڈالر عالمی ادارہ صحت کو ان ممالک میں دیے گئے جہاں پولیو کا خطرہ زیادہ ہے، خصوصاً پاکستان اور افغانستان، جبکہ 200 ملین ڈالر یونیسیف کو ویکسین کی خریداری، ٹیکہ کاری مہمات اور صحت مراکز کی معاونت کے لیے فراہم کیے گئے۔
اسی طرح 2022 میں مرکز نے عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے ساتھ دو مزید معاہدے کیے، جن کا مقصد صومالیہ، سوڈان، عراق، کانگو، وسطی افریقہ، گنی، افغانستان اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں خسرہ اور پولیو کی روک تھام تھا، جن سے 14 ملین سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
اگست 2016 میں مرکز نے فلسطینی وزارت صحت کو 15 ہزار میننجائٹس ویکسین اور 15 ہزار پولیو ویکسین فراہم کیں، جبکہ افغانستان میں بھی پولیو کے خاتمے کے لیے معاونت فراہم کی گئی۔
یہ تمام اقدامات مرکز شاہ سلمان برائے امداد کے ذریعے مملکت کی انسانی اور امدادی ذمہ داریوں اور عالمی شراکت داری کے تسلسل کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امراض کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنا ہے۔
