خادم الحرمین الشریفین کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ اجلاس، 6 اہم فیصلے
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان نے جدہ میں کابینہ اجلاس کی صدارت کی، سعودی قومی دن کے موقع پر مزید کامیابیوں کی امید ظاہر کی اور 6 نئے فیصلے منظور کیے۔
اہم نکات
AI
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود -حفظہ اللہ- نے آج جدہ میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس کے آغاز پر شاہ سلمان نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس ملک کو عظیم نعمتوں سے نوازا اور حرمین شریفین کی خدمت کا شرف عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کل بدھ کو اپنا قومی دن منائے گا اور اس موقع پر وہ ملک و قوم کی ترقی اور کامیابیوں کے تسلسل کے لیے پُرامید ہیں۔
شاہ سلمان نے عسکری و سیکیورٹی اداروں اور ان کے بہادر اہلکاروں کے کردار کو سراہا جو وطن کے دفاع اور مقدس مقامات، حجاج، معتمرین، شہریوں اور مقیمین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کی، جسے عالمی سطح پر بھی مسترد کیا گیا، اور کہا کہ مقدسات کی حرمت پامال کرنا دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
کابینہ نے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی مصر کے دورے کے نتائج پر بھی گفتگو کی اور صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے مضبوط برادرانہ تعلقات اور ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔
کابینہ کو ولی عہد کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے موصولہ پیغام اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس میں علاقائی صورتحال اور سمندری سلامتی و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔
وزیر اطلاعات سلمان بن یوسف الدوسری نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کابینہ نے علاقائی پیش رفت کے تناظر میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر کاربند رہنے، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی آبی گذرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ممالک کا تحفظ اور عوام کی توقعات پوری ہو سکیں اور عالمی تجارت و سپلائی چین کو بھی تحفظ ملے۔
کابینہ نے ان بین الاقوامی کانفرنسوں کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جو حال ہی میں سعودی عرب میں منعقد ہوئیں۔ اس میں یونیسکو کے عالمی فورم برائے اخلاقیاتِ مصنوعی ذہانت 2026ء کے وزارتی اجلاس کی سفارشات کو سراہا گیا، جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی، اس کی حکمرانی اور محفوظ و جامع استعمال کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
کابینہ نے ریاض میں چوتھی عالمی بایومیڈیکل ٹیکنالوجی سمٹ کی کامیابی کو سراہا، جس میں 40 سے زائد معاہدے اور اقدامات شروع کیے گئے جو علم و جدت کے فروغ، اس شعبے کی ترقی اور قومی حکمت عملی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ، عالمی تحقیقی و سائنسی اقدامات کے ذریعے ادویات اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سعودی عرب کی قیادت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ انسانی صحت ہمیشہ اولین ترجیح ہے۔
کابینہ نے قومی آٹو موبائل کمپنی 'سیر' کی پہلی گاڑی کی لانچنگ کو صنعتی شعبے میں ایک نئی اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا، جس سے جدید اور پائیدار صنعتی نظام کی تشکیل، سرمایہ کاری کے فروغ، قومی صلاحیتوں کی حمایت اور نجی شعبے کے کردار کو تقویت ملے گی۔ یہ سب وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے اور سعودی عرب کو اس شعبے میں علاقائی و عالمی مرکز بنانے میں مدد دے گا۔
کابینہ نے اپنے ایجنڈے میں شامل مختلف امور کا جائزہ لیا، جن میں وہ معاملات بھی شامل تھے جن پر مجلس شوریٰ نے بھی غور کیا تھا۔ اس کے علاوہ، سیاسی و سلامتی امور، اقتصادی و ترقیاتی امور، کابینہ کی جنرل کمیٹی اور ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس میں درج ذیل فیصلے کیے گئے:
اول:
سعودی عرب اور اسپین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت کی منظوری۔
دوم:
سعودی-اردنی اعلیٰ رابطہ کونسل کے قیام کے پروٹوکول میں ترمیم کی منظوری اور وزیر خارجہ کو اس پر دستخط کا اختیار دینا۔
سوم:
وزیر خارجہ یا ان کے نمائندے کو سورینام اور پاناما کے ساتھ تعاون کے دو معاہدوں پر بات چیت اور دستخط کا اختیار دینا۔
چہارم:
سعودی عرب اور دیگر ممالک کے درمیان چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں، کاروباری قیادت اور فرنچائز کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت کے رہنما ماڈل کی منظوری اور وزیر تجارت کو اس پر بات چیت و دستخط کا اختیار دینا۔
پنجم:
سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ کے گزشتہ مالی سال کے حتمی اکاؤنٹس کی منظوری۔
ششم:
کابینہ کے ایجنڈے میں شامل متعدد دیگر امور کے حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایت، جن میں وزارت تجارت، وزارت ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، شاہ سلمان عالمی مرکز برائے عربی زبان اور قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر کی ترقیاتی پروگرام کی سالانہ رپورٹس شامل ہیں۔
