سعودی عرب کا غزہ میں اسلحے کے خاتمے کے تاریخی معاہدے پر خیرمقدم
سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں اسلحے کے خاتمے سے متعلق تاریخی معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور جامع امن منصوبے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں اسلحے کے خاتمے سے متعلق معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق جامع امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب صدر ٹرمپ کی قیادت اور ان کے پختہ عزم کو سراہتا ہے، جس کا اس تاریخی کامیابی میں کلیدی کردار رہا ہے۔
وزارت نے مزید کہا: "سعودی عرب مصر، قطر، ترکی، امریکہ، امن کونسل اور تمام شراکت داروں کی ان کوششوں کی قدر کرتا ہے جنہوں نے اس کامیابی کے حصول میں مسلسل کردار ادا کیا۔"
سعودی عرب نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ امن منصوبے کے تمام مراحل طے شدہ وقت میں، قابل اعتماد اور ناقابل واپسی انداز میں، علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نافذ کیے جائیں۔
وزارت خارجہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی و غزہ کی تعمیر نو میں سہولت یقینی بنائی جائے۔
اعرض التغريدة على منصة X
سعودی عرب نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی وحدت کا تحفظ، جامع امن منصوبے کے نفاذ اور پائیدار استحکام و امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایک جامع سیاسی عمل کی بنیاد بننا چاہیے، جو امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حقوق، بالخصوص حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی ضمانت دے۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ایک جامع سیاسی تصفیہ ضروری ہے، جو تنازعے کا خاتمہ کرے اور خطے کے تمام عوام کے لیے سلامتی، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھے۔
