مواد پر جائیں
بدھ، 22 جولائی، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب اور فلپائن کے تعلقات سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور توانائی کی جانب گامزن

فلپائنی سرمایہ کار خوسے انتونیو گوئیتیا نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور فلپائن کے تعلقات اب محض افرادی قوت اور ترسیلات تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ شراکت داری سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور توانائی سمیت کئی شعبوں تک پھیل رہی ہے۔

عاجل اردو6 گھنٹے پہلے · 2 منٹ مطالعہ
سعودی عرب اور فلپائن کے وفود کی ملاقات

اہم نکات

AI

فلپائن کے ممتاز سرمایہ کار خوسے انتونیو ایخیرسیتو گوئیتیا نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور فلپائن کے تعلقات اب روایتی دائرے یعنی افرادی قوت اور ترسیلات زر سے آگے بڑھ کر وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف گامزن ہیں، جس میں سرمایہ کاری، خدمات، غذائی تحفظ، توانائی اور انسانی سرمائے کی ترقی جیسے شعبے شامل ہیں، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاض اور منیلا کے تعلقات مضبوط تاریخی، انسانی اور ثقافتی رشتوں پر قائم ہیں، جنہیں عشروں پر محیط سفارتی تعاون نے مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ مملکت میں فلپائنی تارکین وطن کی ایک بڑی کمیونٹی بھی موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں فلپائنی شہریوں نے صحت، انجینئرنگ، تعلیم، تعمیرات، فنی خدمات اور مہمان داری سمیت اہم شعبوں میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خدمات سعودی عرب کی ترقی کا حصہ رہی ہیں اور ساتھ ہی ترسیلات زر کے ذریعے فلپائنی معیشت کو بھی سہارا ملا ہے۔

گوئیتیا کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ 'افرادی قوت کی برآمد' کے تصور سے آگے بڑھ کر 'شراکت داری کی تعمیر' کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت میں جاری بڑے منصوبے فلپائنی کمپنیوں اور ماہرین کے لیے سیاحت، قابل تجدید توانائی، صحت کی دیکھ بھال، ڈیجیٹل خدمات، لاجسٹکس اور فوڈ انڈسٹری سمیت کئی شعبوں میں وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ مستقبل میں تعاون کا ایک اہم شعبہ بن سکتا ہے، کیونکہ فلپائن کے پاس زرعی اور غذائی شعبے میں نمایاں صلاحیتیں ہیں، جبکہ سعودی عرب زرعی سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ قابل تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی میں بھی شراکت کے امکانات روشن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی وژن 2030 نے مملکت کو عالمی معیشت میں ایک نمایاں مقام دلایا ہے اور اسے سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے پرکشش مرکز بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق فلپائن اپنی کمپنیوں، تعلیمی اداروں، زرعی شعبے اور کاروباری افراد کے ذریعے اس مرحلے میں مؤثر شراکت دار بن سکتا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تاریخی تعلقات کو پائیدار معاشی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں میں بدلا جا سکتا ہے۔

انسانی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی اور فلپائنی عوام کے درمیان تعلقات دوطرفہ شراکت داری کی بنیاد ہیں، جو مشترکہ تجربات اور معاشرتی روابط پر استوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلقات میں مضبوطی، استحکام اور مستقبل میں مزید ترقی کے امکانات موجود ہیں۔

تبصرے (0)