مواد پر جائیں
اتوار، 2 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

خود احتسابی کب رکاوٹ بن جاتی ہے؟ ماہر نفسیات کا جواب

ماہر نفسیات مہا القحطانی کے مطابق بار بار خود کو الزام دینا شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے اور یہ عادت بچپن میں والدین کی جانب سے مسلسل موازنہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 1 منٹ مطالعہ
ماہر نفسیات مہا القحطانی ٹی وی انٹرویو کے دوران

اہم نکات

AI

ماہر نفسیات مہا القحطانی نے کہا ہے کہ خود احتسابی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے کسی غلطی پر بار بار خود کو الزام دے، صرف اس غلطی سے سیکھنے اور اسے درست کرنے پر اکتفا نہ کرے۔ یہ رویہ مثبت خود احتسابی کے برعکس ہے، جس میں انسان اپنی غلطی سے سبق سیکھتا ہے اور اسے دوبارہ نہ دہرانے کا عزم کرتا ہے۔

انہوں نے ٹی وی پروگرام "صباح السعودیہ" میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خود احتسابی کی یہ منفی عادت بچپن سے شروع ہوتی ہے، خاص طور پر جب والدین اپنے بچوں کا مسلسل موازنہ رشتہ داروں سے کرتے ہیں، چاہے وہ تعلیمی میدان ہو یا عمومی کامیابی۔ اس طرح کا موازنہ وقت کے ساتھ بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور انہیں کمزور بنا دیتا ہے۔

مہا القحطانی نے مزید کہا کہ خود احتسابی کے سب سے خطرناک اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں پر ہی توجہ مرکوز کرتا ہے اور اپنی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، جس کے باعث وہ نئی زندگی کے تجربات سے خوفزدہ ہو جاتا ہے اور ناکامی یا الزام کے ڈر سے کچھ نیا کرنے سے ہچکچاتا ہے۔

تبصرے (0)