حوثی حملے پر سعودی بحری جہاز کیخلاف عرب و عالمی مذمتیں
بحر احمر میں سعودی کمپنی کے بحری جہاز پر حوثی حملے کی عرب، علاقائی اور عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے اور عالمی برادری سے تحفظِ جہازرانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اہم نکات
AI
جمعرات کو بحر احمر میں سعودی کمپنی کے بحری جہاز پر حوثی ملیشیا کے حملے پر عرب، علاقائی اور عالمی سطح پر شدید مذمتیں سامنے آئیں۔ اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور سمندری جہازرانی و عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ قطر، کویت، بحرین، یمن، پاکستان اور یورپی یونین نے اس واقعے پر اپنے سرکاری ردعمل دیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حوثیوں کو اس کا نمائندہ قرار دیا۔
قطر نے وزارت خارجہ کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی جہازرانی کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ، عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے براہ راست خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر نے خبردار کیا کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں اور عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً یمن سے متعلق قرارداد 2216 اور بحیرہ احمر میں جہازرانی کی آزادی سے متعلق قرارداد 2722 پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ قطر نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہازرانی کی آزادی بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کنونشن کا بنیادی اصول ہے۔ قطر نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی سلامتی قطر اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سلامتی کا حصہ ہے۔
کویت نے بھی وزارت خارجہ کے بیان میں حملے کی شدید مذمت اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کویت نے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی، سمندری جہازرانی اور عالمی تجارت و توانائی کی فراہمی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔ کویت نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی سلامتی و مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا اور ان حملوں کے فوری خاتمے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہازرانی کی آزادی کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
بحرین نے وزارت خارجہ کے بیان میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں سعودی کمپنی کے جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بحرین نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کنونشن کی کھلی خلاف ورزی، سمندری جہازرانی، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ بحرین نے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز، باب المندب اور دیگر اہم آبی گزرگاہوں میں جہازرانی کے تحفظ اور ذمہ داران کے احتساب کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
یمنی حکومت نے بھی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، جس سے جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یمنی حکومت نے کہا کہ شہری جہازوں اور عالمی توانائی کی فراہمی پر حملے حوثیوں کی دہشت گردانہ فطرت اور علاقائی و عالمی سلامتی کو لاحق خطرے کی عکاسی کرتے ہیں اور یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
اسی سلسلے میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیلیفون کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے طریقوں پر بات چیت ہوئی اور حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
شہباز شریف نے گفتگو کا آغاز حوثی گروہ کے سعودی جہاز پر حملے کی مذمت سے کیا اور اسے بحر احمر میں جہازرانی کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت اور خطے کے استحکام و بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حوثی ایران کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا: "ایران کو فوجی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی طرح خود حوثیوں کو بھی۔ میں حوثیوں سے بہت مایوس ہوں کیونکہ وہ اب تک پیشہ ورانہ اور سمجھداری سے کام لے رہے تھے۔"
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایک سال قبل امریکہ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی تھی کیونکہ انہوں نے تجارت اور جہازرانی کو نشانہ بنایا تھا، اور اب یہ گروہ دوبارہ سرگرم ہوگیا ہے اور گزشتہ رات دو سعودی جہازوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا بحر احمر میں آئل ٹینکر پر حملہ ناقابل قبول اور غیر قانونی ہے اور یہ پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بھڑکا رہا ہے۔
کالاس نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بحر احمر میں جہازوں پر حملے بند کریں اور ایسی تمام سرگرمیاں روکیں جو بین الاقوامی جہازرانی اور بحری عملے کی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کو خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ اور سنگین کشیدگی قرار دیا۔
