تعلیمی نظام میں 20 بڑی تبدیلیاں، طلبہ و اساتذہ متاثر ہوں گے
سعودی عرب میں نئے تعلیمی نظام کے تحت طلبہ، اساتذہ اور اسکولوں سے متعلق 20 اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن پر 180 دن بعد عمل ہوگا۔
اہم نکات
AIسعودی عرب میں تعلیمی نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، جس کی تفصیلات سرکاری گزٹ میں شائع کردی گئی ہیں۔ اس نظام میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور اسکولوں سے متعلق بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس پر عمل درآمد اشاعت کے 180 دن بعد شروع ہوگا۔
نئے نظام کے مطابق، اب ملک میں چھ سے پندرہ سال کی عمر تک تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے، جو ہر فرد کا حق ہے اور سرکاری اسکولوں میں مفت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی شخص بچے کو تعلیم سے محروم کرے یا لازمی تعلیم کے دوران اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نئے نظام کی نمایاں تبدیلیاں
1- چھ سے پندرہ سال کی عمر تک تعلیم لازمی ہوگی۔
2- تعلیم سب کے لیے حق ہے اور سرکاری اسکولوں میں مفت فراہم کی جائے گی۔
3- لازمی تعلیم کے دوران بچے کو تعلیم سے محروم کرنے یا اس کا سلسلہ منقطع کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
4- تعلیم کے لیے بنیادی زبان عربی ہوگی، تاہم ضوابط کے مطابق اضافی زبان میں بھی تعلیم دی جا سکے گی۔
5- بچپن کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول علیحدہ رہیں گے، البتہ مخصوص ضوابط کے تحت استثنا دیا جا سکتا ہے۔
6- وزیر تعلیم کی سربراہی میں تعلیمی امور کے لیے نیا کونسل قائم کیا جائے گا، جو پالیسی سازی اور ضوابط کی منظوری دے گا۔
7- مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ اور خصوصی تعلیمی شعبے متعارف کرائے جائیں گے۔
8- پروگرامنگ، سائنس، ریاضی، فنون اور قرآن کریم جیسے شعبوں میں خصوصی اسکول یا کلاسیں قائم کرنے کی اجازت ہوگی۔
9- ہونہار طلبہ کو تیز رفتاری سے اگلے تعلیمی مراحل میں منتقل کرنے کے لیے ضوابط بنائے جائیں گے۔
10- طلبہ میں نشوونما یا رویے کی ابتدائی خرابیوں کی بروقت تشخیص کے لیے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
11- معذور طلبہ کے انضمام کو فروغ دیا جائے گا اور ان کے لیے معاون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔
12- ایسے معذور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل اور آن لائن تعلیمی پروگرام فراہم کیے جائیں گے جنہیں ضم کرنا ممکن نہ ہو۔
13- باصلاحیت طلبہ کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی پروگرام، اسکول اور مراکز قائم کیے جائیں گے۔
14- ہر سطح پر روایتی (حاضری) تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی، تاہم ضوابط کے مطابق ای لرننگ سے بھی استفادہ کیا جا سکے گا۔
15- نجی اسکولوں کو لازمی طور پر تعلیمی و تربیتی اتھارٹی یا کسی بین الاقوامی منظور شدہ ادارے سے اسکول کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
16- نجی اسکولوں میں فیس میں تبدیلی کا عمل متعلقہ اداروں کے مقررہ معیار کے مطابق منظم کیا جائے گا۔
17- کسی بھی استاد یا انتظامیہ کی ذاتی کوشش سے اگر کوئی کام نظام یا ضوابط کے خلاف ہو تو طالب علم کو اس کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔
18- طلبہ کے حقوق کی ضمانت دی جائے گی، جن میں شکایت سننا، تحفظ، ابتدائی طبی نگہداشت اور بغیر کسی شرط کے کامیابی کا سرٹیفکیٹ دینا شامل ہے۔
19- بعض اساتذہ کو ضوابط، تربیت اور مالی مراعات کے ساتھ اپنی اصل تخصص سے ہٹ کر بھی تدریسی ذمہ داریاں سونپی جا سکیں گی۔
20- اگر کوئی معلم یا منتظم سنگین خلاف ورزی کرے جو نظام عامہ یا قومی یکجہتی کے منافی ہو تو اس کی ملازمت ختم کر کے اسے سرکاری و نجی تعلیمی شعبے میں دوبارہ کام سے روک دیا جائے گا۔
