سعودی عرب اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا
سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ میں ہرگز تساہل نہیں برتے گی اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور جواب دے گی۔
اہم نکات
AI
سعودی کابینہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی، مفادات اور قومی وسائل کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گی اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کا بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے عرفی قواعد کے مطابق، اصول تناسب کو ملحوظ رکھتے ہوئے، سخت جواب دے گی۔ یہ مؤقف آج جدہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران سامنے آیا جس کی صدارت ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔
کابینہ نے ایران سے وابستہ دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے یمن اور عراق میں کیے گئے حملوں، جن میں ریاض اور مشرقی علاقوں کی تیل تنصیبات اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقع پر سعودی فضائی دفاع کی ان حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت کو بھی سراہا گیا۔
کابینہ نے عراقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔ ساتھ ہی ان ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مؤقف کو سراہا گیا جنہوں نے ان مجرمانہ حملوں کی مذمت کی۔
کابینہ نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ مملکت خطے میں کشیدگی میں کمی اور حالات کو قابو میں رکھنے، خلیج عرب اور بحیرہ احمر میں آبی گذرگاہوں کے تحفظ اور علاقائی و عالمی استحکام کے فروغ کے لیے برادر اور دوست ممالک سے رابطے اور مشاورت کے ذریعے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
کابینہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، خصوصاً موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں۔ اس کا مقصد ایسا علاقائی نظام تشکیل دینا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج بنیادی اصولوں، بالخصوص ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، حسن ہمسائیگی، بحری نقل و حمل کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی ہو۔
