پاکستانی وزیراعظم کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری و توانائی تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
اہم نکات
AIپاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں، جو انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری کیا، کہا کہ پاکستان خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور برادر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایکس پر اصل ٹویٹ دیکھیں
آج اس سے قبل، یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب، اس کے قومی اثاثوں، شہریوں اور مقیم افراد کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور حالیہ شدت پسندی ایک خطرناک رجحان ہے، جو اس ملیشیا کے جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
جنرل المالکی نے واضح کیا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حالیہ حملے، جن میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری و معاشی مراکز کو نشانہ بنایا گیا اور جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کے شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف سعودی عرب کے قومی اثاثوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے بلکہ یہ ملیشیا کے مجرمانہ اور انتہا پسندانہ رویے کی بھی عکاسی کرتے ہیں، جو یمن اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
جنرل المالکی نے مزید کہا کہ اتحادی افواج کی قیادت اس دہشت گرد ملیشیا کو روکنے اور اس کے جارحانہ عزائم کا بھرپور جواب دینے کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گی، تاکہ سعودی عرب کی خودمختاری، قومی اثاثوں اور شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے خطرات کے سدباب اور ان کے ذرائع کو غیر مؤثر بنانے کے لیے تمام ضروری تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
