ماہر: مصنوعی ذہانت ملازمتوں پر اثرانداز مگر انسانی فیصلہ ناگزیر
جامعہ ملک سعود کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن المطرف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی ملازمتوں کو بدل رہی ہے، تاہم انسانی فیصلہ سازی اب بھی ضروری ہے۔
اہم نکات
AIجامعہ ملک سعود کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن المطرف کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے مستقبل کی ملازمتوں میں تبدیلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں کہا کہ فی الحال فیصلے کرنے کے لیے صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں انسانی وجدان کی کمی ہے۔
المطرف نے بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کو ذاتی، خاندانی، تنظیمی، قانون سازی اور بڑی کمپنیوں کی سطح پر بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں جن ملازمین کو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے فارغ کر رہی تھیں، اب دوبارہ انہیں واپس بلا رہی ہیں، کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت ابھی تربیت اور تیاری کے مرحلے میں ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
