سعودی کابینہ کے 14 اہم فیصلے، او آئی سی انسانی فنڈز میں شمولیت
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں او آئی سی کے انسانی فنڈز میں شمولیت سمیت 14 اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اہم نکات
AI
سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس آج ریاض میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے آغاز پر کابینہ نے وطن کے دفاع، اس کی سلامتی اور شہریوں و مقیمین کے تحفظ میں مسلح افواج کے کردار کو سراہا، اور کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ امن و امان کا گہوارہ رہے گا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا، ساتھ ہی خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہے گا۔
کابینہ نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی ایئرپورٹس، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، حرمین شریفین کے زائرین اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر بار بار حملوں کے سنگین نتائج ہوں گے۔ کابینہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
کابینہ نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خطرات کے سدباب کے لیے اتحادی افواج کی کارروائیوں کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری نقل و حمل کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس موقع پر دوست ممالک اور عالمی اداروں کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔
کابینہ نے مشرق سے مغرب تک تیل کی پائپ لائن کی بحالی میں سعودی انجینئرز کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے توانائی کے شعبے کی مضبوطی اور عالمی منڈیوں کو مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر اطلاعات سلمان بن یوسف الدوسری نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کابینہ نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور دوست ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی۔
کابینہ نے سعودی بحرینی کوآرڈینیشن کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے نتائج کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
کابینہ نے ریاض میں جاری 25ویں عالمی پیٹرولیم کانفرنس اور دیگر عرب و بین الاقوامی وزارتی اجلاسوں کے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ سعودی عرب توانائی کے شعبے میں عالمی مرکز اور شراکت داری کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
مقامی سطح پر کابینہ نے 2026 کی سالانہ قومی خون عطیہ مہم میں عوامی شرکت کو سراہا، جس کا مقصد انسانی خدمت اور مریضوں کے علاج کے لیے خون کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
کابینہ نے اپنے ایجنڈے میں شامل متعدد امور پر غور کیا، جن میں مجلس شوریٰ کی سفارشات بھی شامل تھیں، اور متعلقہ کمیٹیوں اور ماہرین کی آراء کی روشنی میں مندرجہ ذیل فیصلے کیے:
اول:
سعودی عرب کی اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی فنڈز میں شمولیت کی منظوری۔
دوم:
وزیر ثقافت یا ان کے نمائندے کو شام کے ساتھ ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بات چیت اور دستخط کا اختیار۔
سوم:
وزیر ماحولیات، پانی و زراعت کو مرکز برائے موسمیات اور مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو کے درمیان موسمیاتی تعاون کی یادداشت پر بات چیت اور دستخط کا اختیار۔
چہارم:
سعودی وزارت تعلیم اور یونیسکو کے علاقائی مرکز برائے معیار و امتیاز کے درمیان سائنسی و تعلیمی تعاون کی یادداشت کی منظوری۔
پنجم:
سعودی ریسرچ اینڈ انوویشن اتھارٹی اور ترکی کی سائنسی و ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل کے درمیان تحقیق و جدت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کی منظوری۔
ششم:
معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے سعودی اتھارٹی اور دیگر ممالک و عالمی اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے لیے رہنما ماڈل کی منظوری اور وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود کو بات چیت و دستخط کا اختیار۔
ہفتم:
سعودی اور مصری مرکزی بینکوں کے درمیان مالیاتی اداروں کی نگرانی و تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بات چیت اور دستخط کا اختیار۔
ہشتم:
خلیجی ممالک کے لیے غذائی تحفظ کی حکمت عملی کی تین سال کے لیے رہنما اصولوں کے طور پر منظوری۔
نہم:
وزیر صنعت و معدنیات کو جنرل اتھارٹی برائے غیر ملکی تجارت کا چیئرمین اور وزیر تجارت کو نائب چیئرمین مقرر کرنے کی منظوری۔
دہم:
جنرل اتھارٹی برائے غیر ملکی تجارت اور سعودی ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ضم کر کے 'جنرل اتھارٹی برائے غیر ملکی تجارت و ایکسپورٹ' کے قیام اور 180 دن میں قانونی تقاضے مکمل کرنے کی ہدایت۔
گیارہویں:
عبداللہ بن احمد التویجری کو انشورنس اتھارٹی کے بورڈ کا رکن مقرر کرنے کی منظوری۔
بارہویں:
درعیہ گیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے گزشتہ مالی سال کے حتمی اکاؤنٹس کی منظوری۔
تیرہویں:
کابینہ کے ایجنڈے میں شامل متعدد موضوعات پر ضروری اقدامات کی ہدایت، جن میں وزارت انصاف، وزارت اطلاعات، زکوٰۃ و ٹیکس و کسٹمز اتھارٹی، سعودی اتھارٹی برائے دانشورانہ املاک، ماحولیاتی فنڈ، قومی مرکز برائے زرعی تحقیق و ترقی، قومی مرکز برائے حکومتی وسائل، پبلک ایڈمنسٹریشن انسٹی ٹیوٹ اور قومی رسک کونسل کی سالانہ رپورٹس شامل ہیں۔
چودہویں:
پندرہویں گریڈ، سفیر اور وزیر مفوض کے عہدوں پر ترقیوں کی منظوری:
- سلطان بن عرار الدوسری کو وزارت داخلہ میں سینئر بزنس کنسلٹنٹ (گریڈ 15) پر ترقی۔
- فہد بن سعد الدوسری کو وزارت مالیات میں سینئر کمپیوٹر انجینئرنگ کنسلٹنٹ (گریڈ 15) پر ترقی۔
- وزارت خارجہ میں مندرجہ ذیل افراد کو سفیر کے عہدے پر ترقی:
- صقر بن سلیمان القرشی۔
- غازی بن رافع العنزی۔
- احمد بن عبدالعزیز سلامہ۔
- فواز بن عبدالرحمن الشبیلی۔
- وزارت خارجہ میں مندرجہ ذیل افراد کو وزیر مفوض کے عہدے پر ترقی:
- ترکی بن ہویج السلوم۔
- یوسف بن عمر جزار۔
- خالد بن عبداللہ الغفیص۔
- محمد بن مسفر العتیبی۔
- سعد بن علی عسيری۔
- احمد بن محمد الہاجری۔
- محمد بن احمد بن شافی۔
- عماد بن امین الیاس۔
