سعودی عرب کا یریوان میں ماحولیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے پر زور
سعودی عرب نے یریوان میں حیاتیاتی تنوع کے قائدین کی کانفرنس میں ماحولیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے اور اپنی قومی کامیابیاں اجاگر کرنے پر زور دیا۔
اہم نکات
AIسعودی عرب نے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور ماحولیاتی وعدوں کو عملی فیصلوں، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں میں بدلنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ قدرتی وسائل کا تحفظ ممالک کے استحکام، غذائی و آبی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری ہے۔
یہ بات سعودی عرب کی جانب سے ڈاکٹر محمد بن علی قربان، چیف ایگزیکٹو نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ اور سعودی وفد کے سربراہ نے یریوان میں اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن (COP17) کے تحت منعقدہ قائدین کی کانفرنس میں کہی، جس کے باضابطہ اجلاس 19 سے 30 اکتوبر 2026 تک جاری رہیں گے۔
ڈاکٹر قربان نے واضح کیا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ویژن 2030 کے تحت قومی منصوبہ بندی میں شامل کر کے اس پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، اور ماحولیاتی استحکام کو فروغ دے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک منظور کیا ہے جو کونمنگ-مونٹریال عالمی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے، اور اس میں 22 قومی اہداف شامل ہیں جو ماحولیاتی ترجیحات اور ملکی و عالمی اہداف کے حصول کی سمت متعین کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی ماحولیاتی کامیابیاں
ڈاکٹر قربان نے قومی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کی 18.3٪ زمینی اور 16.2٪ سمندری حدود محفوظ علاقوں پر مشتمل ہیں، جو 2030 تک 30٪ زمینی و سمندری علاقوں کے تحفظ کے ہدف کے حصول کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ماحولیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے اب تک ایک ملین ہیکٹر سے زائد بنجر اراضی کو بحال کیا ہے اور 159 ملین سے زائد درخت لگائے ہیں، جبکہ مجموعی ہدف 40 ملین ہیکٹر اراضی کی بحالی ہے۔
اسی طرح، سعودی عرب نے 10,000 سے زائد جنگلی حیات کو ان کے قدرتی مسکن میں چھوڑا ہے تاکہ نایاب انواع کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کچرے کے انتظام کے شعبے میں، سعودی عرب نے نیشنل ویسٹ مینجمنٹ سینٹر قائم کیا ہے اور اس شعبے کو منظم کیا ہے تاکہ سرکلر اکانومی، ری سائیکلنگ کے فروغ اور آلودگی میں کمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
سمندری حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے، سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں مرجان اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے پبلک اتھارٹی قائم کی ہے، جس کا مقصد ان انواع اور ان کے قدرتی مسکن کا تحفظ اور مرجان و کچھوؤں کے افزائش مقامات کی بحالی ہے۔
ڈاکٹر قربان نے عالمی سائنسی تعاون کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت نے جی 20 کی صدارت کے دوران 2020 میں عالمی پلیٹ فارم برائے مرجان ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا آغاز کیا۔
عملی اقدامات اور عالمی تعاون کی اپیل
ڈاکٹر قربان نے اس بات پر زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع کے عالمی اہداف کے حصول کے لیے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا، بین الاقوامی شراکت داریوں کے فروغ، علم کے تبادلے اور مؤثر اقدامات میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے قائدین کی کانفرنس کے نتائج کو عالمی اہداف کے حصول کے لیے تیز تر عمل میں بدلنا چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ "یریوان کال ٹو ایکشن" عملی اقدامات کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی پائیداری کے لیے کام جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن کا 17واں اجلاس یریوان میں 19 سے 30 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور سائنسی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔
