ڈنمارک کی حوثی حملوں کی مذمت، پابندیوں کی تجدید کی امید
ڈنمارک نے سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن میں انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات
AIمملکت ڈنمارک نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں شہری انفراسٹرکچر کو بار بار نشانہ بنانا اور تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
یہ موقف اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل مندوب سفیر کرسٹینا مارکوس لاسن نے نیویارک میں عالمی ادارے کے اجلاس کے دوران پیش کیا۔
لاسن نے واضح کیا کہ ڈنمارک یمن میں مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی جھڑپوں پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے اور حالیہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی۔ انہوں نے تمام حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
اسی تناظر میں، انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کی مسلسل حمایت انہیں حملے جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے، جس سے بحران میں شدت آتی ہے اور یمن میں امن کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
پابندیوں کی تجدید اور اسلحہ منتقلی روکنے کا مطالبہ
لاسن نے غیر قانونی اسلحہ اور فوجی امداد کی منتقلی کو مؤثر طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان کا ملک آئندہ ماہ پابندیوں کی تجدید اور ان پر مؤثر عمل درآمد کا منتظر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کے باعث اقوام متحدہ یمن کے وسیع علاقوں میں انسانی امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
جامع سیاسی حل
ڈنمارک کی سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جامع سیاسی عمل ہی یمن کے بحران کا پائیدار حل ہے۔ انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حملے روکیں اور یمنی عوام کی طویل انسانی مشکلات کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔
