سعودی عرب کا بحیرہ احمر اور باب المندب میں سکیورٹی پر دوٹوک مؤقف
سعودی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنے امن یا بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری نقل و حمل کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔
اہم نکات
AIسعودی کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت اپنے امن یا بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری نقل و حمل کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ کابینہ نے ان دوست اور برادر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مؤقف کو بھی سراہا جنہوں نے حوثی ملیشیا کے جرائم کی مذمت کی ہے۔
کابینہ نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی ان فوجی کارروائیوں کو سراہا جن کا مقصد یمنی عوام کو حوثی ملیشیا کے خطرے سے محفوظ بنانا، بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی تجارت و سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔
کابینہ نے مشرق تا مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی میں حاصل ہونے والی کامیابی کو بھی سراہا اور کہا کہ تیز رفتار بحالی مملکت کے توانائی نظام کی اعلیٰ آپریشنل صلاحیت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تکنیکی مہارت کی عکاس ہے، جو بین الاقوامی منڈیوں میں سپلائی کے تسلسل اور عالمی معیشت کی حمایت کو یقینی بناتی ہے۔
یہ بات آج ریاض میں ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کہی گئی۔
