طلبہ کی نفسیاتی تیاری نئے تعلیمی سال کے لیے ضروری ہے
ماہر تعلیم ڈاکٹر فیصل الشدوخی نے کہا ہے کہ طلبہ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل نفسیاتی طور پر تیار کرنا ان کی تیاری کو مضبوط بناتا ہے۔
اہم نکات
AIماہر تعلیم اور تربیتی امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل الشدوخی نے طلبہ کو نئے تعلیمی سال کے لیے نفسیاتی طور پر تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر الشدوخی نے «ریڈیو الاخباریہ» سے گفتگو میں کہا کہ طلبہ کی نفسیاتی تیاری ان کی مجموعی تیاری کو مضبوط بناتی ہے، اس کے ساتھ ضروری ہے کہ والدین ان کے خدشات سنیں اور ان کے جذبات کو سمجھیں، اس سے پہلے کہ انہیں ہدایات دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نفسیاتی تیاری تمام تعلیمی مراحل کے لیے اہم ہے، چاہے وہ ابتدائی ہوں یا ثانوی، کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ میں اپنے ساتھیوں سے ملنے کا جوش تو ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی کچھ خدشات بھی ہوتے ہیں۔
ماہر تعلیم نے بتایا کہ طلبہ کے یہ خدشات اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ نئی جماعت کے تقاضوں اور نئے مضامین یا تعلقات سے ناواقف ہوتے ہیں، جس سے انہیں کچھ گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین کا کردار اس حوالے سے یہ ہے کہ وہ طلبہ سے تعلیمی مرحلے کے بارے میں سوالات کر کے ان کی بات سنیں اور انہیں بولنے کا موقع دیں، بجائے اس کے کہ فوراً ہدایات دینا شروع کر دیں۔
اعرض التغريدة على منصة X
