آسیان کانفرنس کی سعودی عرب اور مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت
چوتھی آسیان کانفرنس نے حوثی حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کی اسلامی خدمات کو سراہا۔
اہم نکات
AIکمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم پن میں وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام ہونے والی چوتھی بین الاقوامی آسیان کانفرنس 'خیر امت' کے شرکاء نے حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے شہری مقامات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔
یہ موقف آج جاری ہونے والے کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں سامنے آیا، جس میں شرکاء نے مسلمانوں کے مقدسات کو نشانہ بنانے والے ان مجرمانہ اقدامات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کی خلاف ورزیوں کے سدباب کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں سعودی عرب کی جانب سے مسلمانوں کو متحد کرنے اور صف بندی کے لیے کانفرنس کے انعقاد و حمایت سمیت اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اس کے قائدانہ کردار کی تعریف کی گئی۔
کانفرنس کی سفارشات اور اعتدال پسندی کی اپیل
کانفرنس نے اپنی سفارشات میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کانفرنس کی سرپرستی اور اسلام و مسلمانوں کی خدمت اور اعتدال و میانہ روی کے فروغ پر شکریہ و تحسین پیش کی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اعتدال پسندی وہی راستہ ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ابتدائی تین بہترین نسلیں قائم رہیں، اور یہی مشکلات کے حل اور چیلنجز سے نکلنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ عبادات، معاملات اور اخلاق میں اعتدال کو اپنا شعار بنائیں۔
اسلامی ممالک میں اتحاد اور تعاون کا فروغ
کانفرنس نے صحیح عقیدے پر قائم رہنے، اللہ کی خالص توحید کے قیام اور غلو و افراط سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ شرک، بدعت اور ہر اس عمل کی مخالفت کی جو اللہ کی ناراضی کا باعث بنے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ اسلام عدل، رحمت اور احسان پر مبنی ہے اور ظلم، زیادتی اور دہشت گردی کو حرام قرار دیتا ہے۔
کانفرنس نے علماء اور مبلغین پر زور دیا کہ وہ صحیح عقیدہ پھیلانے، دینی اصولوں کی تعلیم اور اسلامی اقدار نوجوان نسل کے دلوں میں راسخ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھائیں۔
شرکاء نے کانفرنس کی میزبانی اور سہولیات فراہم کرنے پر کمبوڈیا کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس طرح کی سرگرمیوں کے تسلسل کی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ یہ مسلمانوں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ کانفرنس میں سعودی عرب اور آسیان ممالک کے تقریباً 130 علماء، محققین اور اسلامی شخصیات نے شرکت کی۔ آٹھ علمی نشستوں میں امت کی بھلائی، اتحاد کے فروغ اور انتہا پسندی و شدت پسندی کے مقابلے جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
