سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں بحری عملے کے حقوق پر زور
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری عملے کے انسانی حقوق اور تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے، جہاں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری عملے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے، جہاں انہیں سخت انسانی حالات اور بنیادی حقوق کو لاحق خطرات کا سامنا ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ جنیوا میں سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر عبد المحسن بن خثیلہ نے مختلف علاقائی ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے انسانی حقوق کونسل کے تریسٹھویں اجلاس کے دوران عمومی بحث میں مشترکہ بیان میں کہی۔
سفیر نے بیان میں گروپ کی جانب سے بحری عملے کو درپیش عدم تحفظ اور مشکل حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہری جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں عملے کے افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی بحری عملے خوراک، پینے کے پانی، ایندھن، ادویات اور طبی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق کونسل کی قرارداد نمبر 56/18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بحری عملہ ایک ایسا طبقہ ہے جسے خصوصی تحفظ درکار ہے اور وہ ان حالات کے ذمہ دار نہیں جن میں وہ پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان کی جان، صحت، سلامتی اور وقار کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
مشترکہ بیان میں متعلقہ فریقین کی جانب سے بحری عملے کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا اور بالخصوص خلیجی ممالک کی بندرگاہی اور بحری حکام کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت کی جانے والی امدادی کارروائیوں، بنیادی ضروریات اور طبی امداد کی فراہمی، انتظامی امور میں لچک اور عملے کی تبدیلی میں سہولت فراہم کرنے کی تعریف کی گئی۔
بیان کے اختتام پر سعودی عرب نے گروپ کی جانب سے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کا تحفظ محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حمل سے جڑا ہوا ہے، جسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانون سمندر کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تجارتی جہازوں اور بحری عملے کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی سلامتی پر زور دیا جا رہا ہے۔
