شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو کی 50 ہزار ماحولیاتی گشتیں مکمل
شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے اپنی ماحولیاتی ٹیم کی 50 ہزار گشتیں مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جس سے قدرتی تحفظ اور قومی افرادی قوت کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے۔
اہم نکات
AIشہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے عالمی یوم ماحولیاتی انسپکٹرز کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ اس کے انسپکٹرز نے ریزرو کے بری و بحری علاقوں میں آپریشنز کے آغاز سے اب تک 50 ہزار گشتیں مکمل کر لی ہیں۔ یہ ریزرو 24,500 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
ریزررو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس نے بتایا کہ قدرتی ماحول کے تحفظ میں کامیابی کا انحصار مقامی کمیونٹی پر ہے۔ ان کے مطابق ریزرو کے ماحولیاتی انسپکٹرز مقامی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زمین سے نسلاً وابستگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقامی علم کو مملکت کے قدرتی تحفظ کے سفر میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
ٹیم میں اضافہ اور خواتین کی شمولیت
گزشتہ چار برسوں میں ماحولیاتی انسپکٹرز کی ٹیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد 27 سے بڑھ کر 231 ہو گئی ہے، جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔ ٹیم میں مشرق وسطیٰ کی پہلی خواتین ماحولیاتی انسپکٹرز بھی شامل ہیں اور خواتین کی شرح 34 فیصد ہے، جبکہ عالمی اوسط 11 فیصد ہے۔
اس عرصے میں انسپکٹرز نے 50 ہزار گشتیں کیں، 400,000 سے زائد گھنٹے فیلڈ ورک کیا اور 3,980,000 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے طے کیا۔ ان اقدامات کا مقصد ریزرو کے 15 ماحولیاتی نظاموں میں توازن بحال کرنا اور قدرتی و ثقافتی ورثے کا تحفظ ہے۔
بحری کامیابیاں اور سعودی عزم
بحری شعبے میں، جنوری 2025 سے ماہر گشتی کشتیوں کے آغاز کے بعد سے ماحولیاتی انسپکٹرز نے تقریباً 55,000 کلومیٹر سمندر میں گشت کی، جو بحیرہ احمر کے سعودی ساحل کے ساتھ 30 بار گشت کے برابر ہے۔ یہ سرگرمیاں غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی نگرانی کے لیے کی گئیں۔ بحری ٹیم میں 30 انسپکٹرز ہیں، جن میں 7 خواتین شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ کی پہلی خواتین بحری ماحولیاتی انسپکٹرز بن گئی ہیں۔ انہوں نے تیراکی کے خصوصی پروگرام میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ کامیابیاں مملکت کے اس عزم کا حصہ ہیں کہ 2030 تک خشکی اور سمندر کے 30 فیصد حصے کو محفوظ بنایا جائے، جو کہ تقریباً 200 ممالک کی جانب سے کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے تحت طے کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں، ریزرو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آئندہ نسل کو تربیت، بااختیار بنانے اور تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ وہ قدرتی تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔ موجودہ تخمینوں کے مطابق، مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے مملکت میں ماحولیاتی انسپکٹرز کی تعداد میں 46 فیصد اضافہ درکار ہے۔
