سعودی عرب اور اٹلی کا آبنائے ہرمز و باب المندب میں بحری سلامتی پر زور
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اطالوی ہم منصب انتونیو تایانی نے روم میں ملاقات کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جس میں علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر زور دیا گیا۔
اہم نکات
AIسعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور اٹلی کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ انتونیو تایانی کے درمیان روم میں ہونے والے دوطرفہ اجلاس کے بعد آج ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس کا متن درج ذیل ہے:
نیویارک کانفرنس کے ورکنگ گروپس اور دو ریاستی حل کے عالمی اتحاد کے اجلاس کے موقع پر، جو 28 اور 29 جولائی 2026 کو روم میں منعقد ہوا، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تایانی نے دوطرفہ ملاقات کی جس میں علاقائی پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرا نے عالمی اتحاد کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا، اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے کردار کو اجاگر کیا جس سے دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن ممکن ہو سکے۔
وزرا نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے، علاقے کو غیر مسلح کرنے، شہریوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور ابتدائی بحالی سرگرمیوں کے آغاز کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحاتی کوششوں کی حمایت اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی کنارے کے جزوی، کلی یا عملی الحاق اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر شکل کی مخالفت دہرائی۔
دونوں وزرا نے بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا اور آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب، خلیج عدن اور بین الاقوامی بحری راستوں میں بحری سلامتی اور آزادیٔ جہازرانی کے تحفظ پر زور دیا، جیسا کہ اقوام متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت ہے۔ اس ضمن میں یورپی بحری آپریشن "یونافور ایسپیڈس" اور بالخصوص اٹلی کے کردار کو سراہا گیا۔
یمن کے حوالے سے دونوں وزرا نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سیاسی عمل میں تعمیری طور پر شریک ہوں تاکہ تنازع کا جامع اور پائیدار حل نکل سکے۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، جن میں شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، کی مذمت کی اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی اور جہازرانی کی آزادی کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی۔ یمن کے لیے انسانی اور ترقیاتی امداد اور یمنی عوام کی حمایت کی اہمیت بھی دہرائی گئی۔
دونوں وزرا نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسی یکطرفہ کارروائیوں کی مخالفت کی جو بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں کھاد اور غذائی تحفظ کے لیے روم اتحاد کے عزم کو بھی دہرایا، تاکہ افریقہ اور بحیرہ روم کے ان ممالک کی مدد کی جا سکے جو اس حوالے سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔
دونوں وزرا نے دوطرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی کا خیرمقدم کیا اور تمام اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے آئندہ مشترکہ سرگرمیوں، خصوصاً ریاض میں ہونے والے "سالونی دیل موبیلی میلان" نمائش پر بھی بات کی، جسے ڈیزائن کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کی ایک کامیاب مثال قرار دیا گیا، اور صنعتی مہارت، نوجوان ٹیلنٹ، جدت و تخلیق پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وزرا نے علاقائی استحکام، امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے رابطے اور تعاون جاری رکھنے اور دو ریاستی حل کے عالمی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
