بحری راستوں کا تحفظ عالمی ذمہ داری ہے: نائب سربراہ اسٹاف
نائب سربراہ جنرل اسٹاف فہد الغفیلی نے کہا ہے کہ بحری راستوں کا تحفظ اور آزادانہ نقل و حمل عالمی ذمہ داری ہے اور حوثی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدام ضروری ہے۔
اہم نکات
AIنائب سربراہ جنرل اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل فہد الغفیلی نے کہا ہے کہ اسٹریٹجک بحری راستوں کا تحفظ اور آزادانہ نقل و حمل کی ضمانت دینا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا۔
الغفیلی نے اتوار کو منامہ ڈائیلاگ فورم میں شرکت کے دوران کہا کہ سنہ 2023 سے حوثیوں کے تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں نے عالمی بحری نقل و حمل کو لاحق خطرات کی سنگینی کو آشکار کیا ہے، جس کے باعث اہم بحری راستوں کے تحفظ اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے اجتماعی اقدام ناگزیر ہو گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک بحری راستے ہیں۔ ان میں کسی بھی قسم کی بدامنی براہ راست عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، غذائی تحفظ اور سپلائی چینز پر اثرانداز ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو کمزور کرنا ممالک کے حقوق کی خلاف ورزی اور عدم استحکام و بدامنی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے بحری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے عالمی کوششوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
دفاعی بحری اتحاد میں 14 ممالک شامل
بحری سلامتی کے فروغ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کے تحت الغفیلی نے بتایا کہ مملکت کی بین الاقوامی پہل کاری سے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد (MMDC) قائم ہوا ہے، جس میں اب تک 14 ممالک شامل ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر ممالک بھی ضروری قومی اقدامات مکمل کرنے کے بعد شمولیت کی خواہش رکھتے ہیں۔
نائب سربراہ جنرل اسٹاف نے سعودی بحری سلامتی کے وژن کی بنیادیں بیان کیں، جن میں ممالک کی خودمختاری اور جائز حقوق کا احترام، بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ نقل و حمل کی ضمانت، بحری راستوں کو سیاسی دباؤ یا عسکری تصادم کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت اور تجارتی جہازوں و شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مکمل مذمت شامل ہے۔
انہوں نے مختلف بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بین الاقوامی آبنائے اور بحری راستے تعاون کے میدان ہونے چاہئیں، نہ کہ مقابلے اور تصادم کے۔
الغفیلی نے کہا کہ بحری راستوں کو کھلا، محفوظ اور مستحکم رکھنا تمام ممالک کے مفاد میں ہے، چاہے وہ ان پر واقع ہوں یا تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ان پر انحصار کرتی ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور بات چیت و حکمت کو تصادم پر ترجیح دینا ضروری ہے۔
