یمنی صدر کی سعودی قیادت میں بحری اتحاد اور سعودی حمایت کی تعریف
یمنی صدر ڈاکٹر رشاد العلیمی نے ملک کے اہم مرحلے پر سعودی قیادت میں بحری اتحاد اور یمنی اداروں کی سعودی حمایت کو سراہا۔
اہم نکات
AIیمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی نے ملک کی تاریخ کے اس اہم مرحلے کی اہمیت پر زور دیا ہے، جس میں سب سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت سے ثابت ہوا ہے کہ حوثی ملیشیا اب بھی غیر قانونی فائدے کے لیے کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے اور اس کے فیصلے بیرونی ایجنڈوں کے تابع ہوتے جا رہے ہیں جن کا یمنی عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بات انہوں نے مشاورتی و مصالحتی کمیٹی کے سربراہ محمد الغیثی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ڈاکٹر العلیمی نے کہا کہ یمنی حکومت کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے ذریعے امر واقعہ مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں سعودی عرب نے یمنی ریاستی اداروں، معیشت، انسانی مشکلات میں کمی اور یمن و خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی ستون کا کردار ادا کیا ہے، جو دونوں ملکوں اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کا عکاس ہے۔
یمنی صدر نے سعودی عرب کی قیادت میں کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اسٹریٹجک اقدام اجتماعی سلامتی، بین الاقوامی بحری نقل و حمل کی آزادی اور بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب کی اہم آبی گذرگاہوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قدم ہے۔
صدر العلیمی نے کہا کہ سعودی عرب کی دعوت پر قائم ہونے والا یہ بحری اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ بحری گذرگاہوں کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ اس اتحاد کی کامیابی علاقائی استحکام، بین الاقوامی قوانین کے تحفظ اور دنیا بھر کے عوام کے مشترکہ مفادات کے لیے اہم ہوگی۔
ڈاکٹر العلیمی نے تمام یمنی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھائیں، اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں اور ریاستی منصوبے کے گرد جمع ہو کر داخلی صف بندی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری جمہوریہ کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلہ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے اصل کردار کو بحال کریں، عوام میں شعور اور جوش پیدا کریں اور ریاست کے تصور کو مضبوط بنائیں، تاکہ ملیشیا کے تخریبی منصوبے کو تنہا کیا جا سکے۔
صدر العلیمی نے مزید کہا کہ آج سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی اداروں کی بحالی کی جدوجہد کو صرف اقتدار کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ بنائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشاورتی و مصالحتی کمیٹی قومی ہم آہنگی اور وسیع تر اتحاد کے فروغ کے لیے زیادہ مؤثر پلیٹ فارم بنے گی۔
اعرض التغريدة على منصة X
