یمن حوثیوں کی ملکیت نہیں، تعز ان کے منصوبے کی یرغمال نہیں: سعودی سفیر
سعودی سفیر محمد آل جابر نے حوثیوں پر بحرانوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے اور یمن کو غیر ضروری علاقائی تنازعات میں جھونکنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد آل جابر نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بحرانوں کو سیاسی دباؤ اور تصادم کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یمن کو ایسے علاقائی تنازعات میں ملوث کر رہے ہیں جو اس کے عوام کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام ایک مستحکم ریاست، کھلی شاہراہوں اور باعزت امن کے حق دار ہیں، اور سعودی عرب یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔
آل جابر نے کہا کہ حوثی ہر بحران کو کشیدگی کا موقع سمجھتے ہیں اور سیاسی تقاضوں کو اپنے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حوثی یمنی عوام کی مشکلات کو اپنی تجارت بنا چکے ہیں اور دوسروں پر امن میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔
سفیر نے نشاندہی کی کہ حوثیوں نے قومی مکالمے اور روڈ میپ کی ذمہ داریوں سے گریز کیا اور ریاستی وسائل کو یمنی عوام کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا، اس کے علاوہ ان وسائل کو سعودی عرب اور بحری راستوں کے خلاف بھی بروئے کار لایا۔
تعز کی صورتحال کے حوالے سے آل جابر نے کہا کہ یمن حوثیوں کی ملکیت نہیں اور تعز شہر ان کے منصوبے کی یرغمال نہیں بنے گی۔ انہوں نے گروہ کی جانب سے محاصرے کی باتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ روزانہ خوراک اور ایندھن وصول کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کا طرزعمل بحرانوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا ایک مسلسل نمونہ ظاہر کرتا ہے، اور یمن کو علاقائی تنازعات میں جھونکنا یمنی عوام کے مفاد میں نہیں۔
دوسری جانب آل جابر نے کہا کہ سعودی عرب اپنے عوام، سلامتی، سرزمین اور بحری جہازوں کا تحفظ کرے گا اور یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یمن اور اس کے عوام اس بحران سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔
اعرض التغريدة على منصة X
