سعودی عرب 2026 میں بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کرے گا
سعودی عرب کو اعلیٰ قیادت کی منظوری سے 2026 میں جدہ میں تیسرا بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ منعقد کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جس میں 19 ممالک کے 120 طلبہ و ماہرین شریک ہوں گے۔
اہم نکات
AIاعلیٰ قیادت کی منظوری کے بعد سعودی عرب کو تیسرا بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ "انسو 2026" جدہ میں منعقد کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس مقابلے میں 19 ممالک کے تقریباً 120 طلبہ اور سائنسی ماہرین حصہ لیں گے۔ اس ایونٹ کا مشترکہ انتظام وزارت تعلیم، موہبہ (مؤسسہ شاہ عبدالعزیز و رجالہ للموہبہ والابداع)، کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوایبل انرجی کے تعاون سے کیا جائے گا، جبکہ اس کی میزبانی جامعہ شاہ عبدالعزیز کرے گی۔ مقابلہ 2 سے 9 اگست 2026 تک جاری رہے گا۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی افتتاحی تقریب پیر 3 اگست 2026 کو نائب امیر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہوگی۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ (INSO)، جسے 2024 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے منظور کیا، طلبہ کے درمیان نیوکلیئر سائنس اور اس کی پرامن ایپلی کیشنز کے تبادلۂ خیال کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے محفوظ اور پرامن استعمال کو فروغ دینا، نوجوانوں کو اس اہم شعبے میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دینا اور انہیں ایسی اختراعات و حل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو نیوکلیئر سائنس کے پرامن استعمالات کو وسعت دیں۔
موہبہ کے سیکریٹری جنرل عبدالعزیز الکریدیس نے قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی اور انہیں عالمی سائنسی مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنا مملکت کی ترجیح ہے۔ اس سے سعودی عرب کی سائنسی تقریبات کی میزبانی میں عالمی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔
انہوں نے وزارت تعلیم اور کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوایبل انرجی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو سراہا، جس کے باعث نیوکلیئر سائنس میں طلبہ کی صلاحیتیں ابھارنے اور قومی افرادی قوت تیار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
الکریدیس نے وزارت تعلیم کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر بھی اظہار تشکر کیا، جو موہبہ کے مختلف پروگراموں میں باصلاحیت طلبہ کی تلاش، سرپرستی اور انہیں بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوایبل انرجی کے تعاون کو بھی سراہا، جو اولمپیاڈ کے انعقاد اور نیوکلیئر انرجی کے پرامن استعمال میں طلبہ کی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مملکت میں اس اولمپیاڈ کا انعقاد اس بات کی دلیل ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کی میزبانی اور تنظیم میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس سے باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سائنسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے 2024 میں ریاض میں بین الاقوامی کیمسٹری اولمپیاڈ اور 2025 میں مشرقی ریجن میں ایشیائی فزکس اولمپیاڈ کی بھی میزبانی کی تھی۔
سعودی عرب نے موہبہ کی نمائندگی میں 2024 میں فلپائن میں منعقدہ پہلی اور 2025 میں ملائیشیا میں دوسری نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں شرکت کی، جہاں اس نے مجموعی طور پر 5 بین الاقوامی انعامات حاصل کیے، جن میں ایک چاندی اور تین کانسی کے تمغے شامل ہیں۔
تیسرے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی سعودی عرب کے سائنسی میدان میں امتیاز کے فروغ اور بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کی میزبانی میں اس کے کردار کو مزید مضبوط بناتی ہے، جس سے ملک میں جدید سائنسی شعبوں کے لیے قومی افرادی قوت تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
