سعودی عرب میں تبدیلی کا عشرہ: عوامی زندگی کی نئی تشکیل
گزشتہ دس برسوں میں سعودی عرب میں تبدیلی صرف بڑے منصوبوں یا معیشت تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر شعبے تک پھیل گئی ہے۔
اہم نکات
AIگزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب میں آنے والی تبدیلی صرف بڑے منصوبوں یا معاشی اشاریوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، چاہے وہ رہائش ہو، روزگار، ادائیگیاں، تفریح، رضاکارانہ سرگرمیاں یا ٹیکنالوجی۔
سن 2016 سے 2026 کے درمیان کے اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ وژن 2030 کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب میں کتنی بڑی تبدیلی آئی ہے، اور یہ سفر محض ایک عشرے میں طے ہوا ہے۔
وژن کے آغاز پر سعودی خاندانوں کی رہائش کی ملکیت کی شرح 47 فیصد تھی، جو بڑھ کر 65 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور اب 2030 کے مقررہ ہدف 70 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
مزدور منڈی میں، سعودی خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 36.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو وژن کے اصل ہدف 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہدف کو بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا۔
اسی دوران، سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح 12.3 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 7.2 فیصد رہ گئی، جو وژن کے ہدف 7 فیصد کے قریب ہے۔
مالی لین دین میں بھی اس عرصے میں بڑی تبدیلی آئی۔ 2025 میں الیکٹرانک ادائیگیاں مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 85 فیصد بن گئیں، جب کہ ایک سال میں تقریباً 14.6 ارب الیکٹرانک ادائیگیوں کا ریکارڈ قائم ہوا، جو روزمرہ خریداری کے انداز میں تیزی سے تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
سماجی شرکت کے میدان میں، 2016 میں رضاکاروں کی تعداد 34,040 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 17 لاکھ سے زیادہ ہو گئی، اور اس طرح وژن 2030 کا سالانہ ایک ملین رضاکاروں کا ہدف کئی سال قبل ہی حاصل کر لیا گیا۔
تفریحی شعبے میں، وژن کے آغاز پر سعودی عرب میں کمرشل سنیما گھر موجود نہیں تھے۔ اپریل 2018 میں پہلی سنیما کھولی گئی۔ ستمبر 2024 تک ملک بھر میں 65 مقامات پر 636 سنیما اسکرینیں موجود ہیں، جن میں مجموعی طور پر 63,517 نشستیں ہیں۔
یہ تبدیلی ڈیجیٹل دنیا تک بھی پہنچی۔ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی 99.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2025 میں انٹرنیٹ صارفین میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز اپنانے کی شرح 45.2 فیصد رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔
ان روزمرہ تبدیلیوں کے پس منظر میں سعودی معیشت میں بھی وسیع پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ 2025 میں غیر تیل شعبوں کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سیاحت، ٹیکنالوجی، ثقافت، تفریح اور کھیل سمیت کئی شعبے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں کا تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی تبدیلی صرف منصوبہ بندی یا بڑے منصوبوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ رہائش، روزگار کے مواقع، ادائیگی کے طریقے، تفریح، رضاکارانہ کام اور ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت روزمرہ زندگی کے ہر گوشے میں نظر آتی ہے۔
محض ایک عشرے میں نئے شعبے ابھرے، کئی شعبے وسعت اختیار کر گئے اور سماجی، معاشی و تکنیکی رجحانات میں تبدیلی آئی۔ وہ سرگرمیاں جو چند سال پہلے تک غیر معمولی تھیں، اب سعودی معاشرے کا معمول بن چکی ہیں۔
ان دس برسوں نے سعودی عرب میں زندگی کے کئی پہلوؤں کو ازسرنو ترتیب دیا ہے اور مملکت وژن 2030 کی جانب اس تبدیلی کی عکاسی کرنے والے اعداد و شمار کے ساتھ اپنی پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس سفر کا بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔
