سعودی ماہر: خلائی تحقیق سے علاج کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے
رایانہ برناوی کا کہنا ہے کہ خلائی تحقیق زراعت، طب، صحت سمیت کئی شعبوں میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
اہم نکات
AIسعودی خلانورد رایانہ برناوی نے کہا ہے کہ خلائی تحقیق زراعت، طب، صحت، وکالت، اکاؤنٹنگ سمیت متعدد شعبوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے ان شعبوں میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں مزید کہا کہ مملکت میں جدید لیبارٹریوں اور صحت مراکز کی بدولت ہم خلائی تحقیق سے فائدہ اٹھا کر علاج کی رفتار کو تیز کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی خلائی ایجنسی اور جامعہ شاہ عبداللہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی (کاوسٹ) نے مشرق وسطیٰ کی اپنی نوعیت کی پہلی حیاتیاتی نمونہ جات خلاء میں بھیجی ہیں، جو کہ مشن 'بایولوجیکل گریویٹی 1' کے تحت (SpaceX CRS-35) کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانہ کی گئیں۔
اعرض التغريدة على منصة X
