ترکی پارلیمان نے مکہ دفاعی معاہدے کی پہلی شق منظور کر لی
ترکی پارلیمان نے بدھ کی شب مکہ دفاعی معاہدے کی پہلی شق منظور کر لی، جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع سے متعلق ہے۔
اہم نکات
AIترکی پارلیمان نے بدھ کی شب دیر گئے مکہ دفاعی معاہدے کی پہلی شق منظور کر لی۔ یہ معاہدہ 16 شقوں پر مشتمل ہے اور سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع کے لیے ہے۔
پہلی شق کے مطابق، معاہدے میں شامل ممالک ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے تعاون کے پابند ہوں گے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں مناسب اقدامات کریں گے۔
دوسری شق میں مشترکہ دفاع کے اصول کی وضاحت کی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی رکن ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا اور فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی، جس میں فوجی مدد بھی شامل ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے مطابق حق دفاع کے تحت ہو گا۔
تیسری شق میں دفاع، دفاعی صنعت اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور افواج کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ چوتھی شق کے تحت بین الاقوامی سکیورٹی امور پر باقاعدہ مشاورت اور اہم مفادات و قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے انفرادی یا مشترکہ اقدامات کی اجازت دی گئی ہے۔
پانچویں شق میں دہشت گردی کے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ چھٹی شق میں فوجی اہلکاروں کے تبادلے، مشترکہ تربیت اور مشقوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ تینوں ممالک کی افواج میں عملی ہم آہنگی بڑھے۔
ساتویں شق میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیق، پیداوار اور انسانی وسائل کی تربیت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
آٹھویں شق کے تحت 'سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی' تشکیل دی جائے گی، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور آرمی چیفس شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس کرے گی اور اس کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں ہو گا، جبکہ پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہو گا۔
نویں شق میں محفوظ ذرائع سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، جبکہ دسویں شق میں اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن اور پرزہ جات سمیت باہمی لاجسٹک سپورٹ کی وضاحت کی گئی ہے۔
گیارہویں شق کے مطابق یہ معاہدہ قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ بارہویں شق میں رکن ممالک کی سابقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کیا گیا ہے۔ تیرہویں شق میں معلومات اور دستاویزات کی رازداری، چودہویں شق میں اختلافات کو دوستانہ مشاورت سے حل کرنے کی شق شامل ہے۔
پندرہویں شق کے مطابق تمام رکن ممالک کی منظوری سے معاہدے میں ترمیم کی جا سکتی ہے، جبکہ سولہویں شق میں توثیق کے بعد معاہدے کے نافذ العمل ہونے کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ خادم الحرمین الشریفین کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ دفاع اور روک تھام کے نظام کو مضبوط کرنا اور علاقائی سطح پر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔
