سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 13 ہزار سے زائد غیرقانونی افراد گرفتار
سعودی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران اقامہ، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی پر 13,822 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔
اہم نکات
AIوزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے مختلف علاقوں میں اقامہ، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی پر 13,822 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں 27 ربیع الآخر 1448ھ بمطابق 8 اکتوبر 2026ء سے 3 جمادی الاول 1448ھ بمطابق 14 اکتوبر 2026ء تک انجام دی گئیں۔
وزارت کے مطابق گرفتار شدگان میں 6,547 افراد اقامہ قوانین، 3,896 افراد سرحدی قوانین اور 3,379 افراد محنت قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔
اس کے علاوہ 2,021 افراد کو غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران اور 28 افراد کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
وزارت نے مزید بتایا کہ 24 افراد کو غیرقانونی افراد کو منتقل کرنے، پناہ دینے، ملازمت دینے یا ان کی پردہ پوشی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
قانونی کارروائیاں اور سزائیں
اس وقت 34,834 غیرملکی افراد قانونی کارروائی کے مراحل میں ہیں، جن میں 32,433 مرد اور 2,401 خواتین شامل ہیں۔ 20,190 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا ہے، 6,509 افراد کو سفری بکنگ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا جبکہ 9,454 افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی قوانین کے خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک میں داخل ہونے میں مدد دینا، انہیں منتقل کرنا، پناہ دینا یا کسی بھی طرح کی معاونت فراہم کرنا سنگین جرم ہے، جس کی سزا 15 سال تک قید، ایک ملین سعودی ریال تک جرمانہ، استعمال شدہ ٹرانسپورٹ اور رہائش کی ضبطی اور مجرم کی تشہیر تک ہو سکتی ہے۔
وزارت نے زور دیا کہ یہ جرم قابلِ گرفتاری اور امانت و دیانت کے منافی سنگین جرم ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی ریجن میں 911 اور دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر دیں۔
