سعودی عرب یمنی عوام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے: سیاسی تجزیہ کار
سیاسی تجزیہ کار سامی المرشد نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمنی عوام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور حوثی ملیشیا کے خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اہم نکات
AIسیاسی تجزیہ کار سامی المرشد نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمنی عوام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران سے منسلک حوثی ملیشیا کے خلاف کھڑا ہے، جو خطے اور بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے خطرہ ہے۔
المرشد نے "ریڈیو الاخباریہ" سے گفتگو میں مزید کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے قومی ریاست کے خلاف بغاوت کے آغاز سے ہی اس کا مقابلہ کیا اور اب بھی ہر ممکن طریقے سے یمنی عوام کی مدد کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ سعودی عرب حوثیوں کے یمن، خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرے سے بخوبی آگاہ ہے، اور ان کے اقدامات نے اس حقیقت کو ثابت بھی کیا ہے۔ حوثی ملیشیا ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھوں میں ایک آلہ کار ہے اور اس کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ انہوں نے چار سال تک جنگ بندی کے دوران خاموشی اختیار کیے رکھی، لیکن جب ایران کو مشکلات پیش آئیں تو پاسداران انقلاب نے انہیں بین الاقوامی بحری راستوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
المرشد نے مزید کہا کہ تہران کی مشکلات سے دوچار حکومت نے حوثیوں کو بحیرہ احمر تک پہنچنے کی کوشش کا حکم دیا، جیسا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کرتا ہے، تاکہ دنیا پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ وہ سعودی عرب کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور حال ہی میں اس کے جنوبی شہروں پر حملے کیے ہیں، کیونکہ سعودی عرب ہی یمن اور اس کی قانونی قیادت کو اس ملیشیا سے نجات دلانے کے لیے ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
