ریاض میٹرو کے بیڑے میں 94 نئی ٹرینوں کا اضافہ
ریاض کی شاہی اتھارٹی نے مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر 94 نئی ٹرینیں خریدنے کے معاہدے کیے ہیں، جس سے میٹرو نیٹ ورک کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اہم نکات
AI
ریاض کی شاہی اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ریاض میٹرو کے بیڑے کو مضبوط بنانے کے لیے 94 نئی ٹرینیں خریدنے کے معاہدے کیے ہیں۔ یہ اقدام دارالحکومت میں نقل و حرکت کے مستقبل میں متوقع اضافے اور شہر کی ترقی و ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاض کی توسیع پذیر منصوبہ بندی اور عالمی تقریبات، خصوصاً ایکسپو 2030 ریاض اور ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی کے پیش نظر بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے میٹرو نیٹ ورک میں ٹرینوں کی تعداد 183 سے بڑھ کر 277 ہوجائے گی، جبکہ نئی ٹرینوں کی فراہمی 2028 سے مرحلہ وار شروع ہوگی۔
نئی ٹرینوں کی شمولیت سے ریاض میٹرو کی مجموعی گنجائش میں 60 فیصد اضافہ ہوگا، اور اضافی استعداد کو مختلف روٹس پر متوقع مسافروں کی تعداد کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اس طرح سرخ روٹ کی گنجائش میں 142 فیصد، پیلے روٹ میں 116 فیصد، نیلے روٹ میں 60 فیصد، جبکہ نارنجی روٹ میں 27 فیصد اور جامنی روٹ میں 16 فیصد اضافہ ہوگا۔
ریاض میٹرو نیٹ ورک کو ابتدا ہی سے زیادہ ٹرینوں اور تدریجی توسیع کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاکہ استعمال میں اضافے کے ساتھ اس کی صلاحیت بھی بڑھائی جا سکے۔
یہ اضافہ اس پس منظر میں کیا جا رہا ہے کہ ریاض میٹرو نیٹ ورک مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کے مسافروں کی مجموعی تعداد آپریشن کے آغاز سے اب تک 300 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران مسافروں کی اوسط تعداد میں 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جرمن کمپنی سیمنز اور فرانسیسی کمپنی السٹوم اس بیڑے کی توسیع کے معاہدوں پر عملدرآمد کریں گی، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 ارب سعودی ریال ہے۔ ان معاہدوں میں ٹرینوں کی تیاری، نظام اور دیگر متعلقہ خدمات شامل ہیں۔
ٹرینیں مرحلہ وار تیار اور فراہم کی جائیں گی، ہر کھیپ کو آپریشنل تجربات اور آزمائش کے بعد بتدریج سروس میں شامل کیا جائے گا۔
یہ سرمایہ کاری ریاض کی شاہی اتھارٹی کی جانب سے دارالحکومت میں نقل و حمل کے نظام کو جدید اور مربوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں سڑکوں، انٹرچینجز، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ شہر کی آبادی اور تعمیراتی ترقی کے ساتھ اس کی بنیادی سہولیات مستقبل کی ضروریات کے مطابق رہیں۔
