جاپانی سائنسدانوں نے سمندری پانی میں تیزی سے تحلیل ہونے والا پلاسٹک تیار کر لیا
جاپان کے محققین نے ایک نیا پلاسٹک تیار کیا ہے جو سمندری پانی میں تیزی سے تحلیل ہو جاتا ہے، جس کا مقصد سمندری آلودگی میں کمی لانا ہے۔
اہم نکات
AIٹوکیو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے جاپانی تحقیقی اداروں کے تعاون سے ایک نیا بایوڈیگریڈیبل پلاسٹک تیار کیا ہے جو سمندری پانی میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق، اس پلاسٹک میں خصوصی انزائمز شامل کیے گئے ہیں جو اسے تیزی سے تحلیل ہونے کی صلاحیت دیتے ہیں، اور اس کے لیے سمندر کی تہہ میں پائے جانے والے مخصوص جرثوموں کی ضرورت نہیں رہتی۔
تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ یہ پلاسٹک سمندری پانی سے رابطے میں آتے ہی تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور تجربات میں یہ پانچ ماہ تک سمندر کی تہہ میں، سات سو پچاس میٹر سے زیادہ گہرائی پر، مکمل طور پر تحلیل ہو گیا۔
تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انزائمز والے اس پلاسٹک کی تحلیل کی رفتار عام بایوڈیگریڈیبل پلاسٹک کے مقابلے میں تیس گنا زیادہ ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو پہاڑوں اور دریاؤں جیسے دیگر ماحول میں بھی استعمال کیا جا سکے گا، اور اس کے عملی اطلاق سے سمندری آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
