یومِ وطنی: شاہ عبدالعزیز کی علمی و ثقافتی اشاعت میں غیرمعمولی دلچسپی
شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے سعودی عرب کی ریاست کی بنیاد میں ثقافتی تعمیر کو بنیادی ستون قرار دیا اور ملک میں علم و ورثے کے فروغ کو ترجیح دی۔
اہم نکات
AIسعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ نے ریاست کی بنیاد میں ثقافتی تعمیر کو ایک اہم ستون قرار دیا۔ 23 ستمبر 1932 کو مملکت کے اتحاد کے اعلان کے بعد، شاہ عبدالعزیز نے ملک کے تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کو ترقی دینے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ اس وقت مملکت کو ابتدائی مدارس اور کُتاتِیب سے نکل کر ایک جامع تعلیمی و ثقافتی ڈھانچے کی ضرورت تھی، جس سے ملک کی شناخت اور مستقبل کی امنگیں مضبوط بنیادوں پر استوار ہوں۔

شاہ عبدالعزیز نے ابتدا ہی سے طباعت و اشاعت کے شعبے کو بھرپور توجہ دی۔ انہوں نے اپنی ذاتی اخراجات پر سینکڑوں دینی، تاریخی اور ثقافتی کتب کی اشاعت کی سرپرستی کی، چاہے وہ مملکت کے اندر ہو یا مصر، ہندوستان اور شام جیسے ممالک میں۔ اس مقصد کے لیے مطبعہ ام القری قائم کی گئی، تاکہ یہ کتب طلبہ اور اہل علم تک پہنچ سکیں اور اسلامی ثقافت کو فروغ ملے۔
کتب کی اشاعت کے اس عمل کے پیچھے کئی مقاصد کارفرما تھے، جن میں علم کا فروغ، ثقافت و معرفت کی ترویج اور عرب و اسلامی ورثے کی خدمت شامل تھی۔ شاہ عبدالعزیز کے خرچ پر مصر کی المنار اور ہندوستان کی مطابع میں کئی اہم کتب شائع ہوئیں، جیسے تاریخ ابن غنام اور دیوان ابن سحمان۔ اسی دور میں سرکاری اخبار 'ام القری' جاری ہوا، جو ریاست کا سرکاری ترجمان بنا۔ بعد ازاں محکمہ معارف عامہ کے زیر نگرانی کئی علمی و ثقافتی مجلات بھی شائع ہوئیں، جیسے 'مجلة الإصلاح'۔

شاہ عبدالعزیز کے دور میں مکہ مکرمہ کی سرکاری مطبعہ (المطبعہ الامیریہ) کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ حکومت نے کئی نجی مطابع خرید کر انہیں سرکاری مطبعہ میں ضم کیا اور بعض ملازمین کو طباعت کی تربیت کے لیے مصر بھیجا۔ مکہ مکرمہ میں المطبعة الماجدية اور المطبعة العربیہ سمیت کئی مطابع قائم ہوئیں، جبکہ مدینہ منورہ میں 1355ھ (1936ء) میں مصر سے درآمد شدہ مطبعہ نصب کی گئی۔ جدہ میں اس وقت تین مطابع تھیں: مطبعة الشركة العربية، المطبعة الشرقية اور مطبعة الفتح۔
شاہ عبدالعزیز کے عہد میں مطبوعات کے دو نظام جاری ہوئے: پہلا 1347ھ (1928ء) اور دوسرا 1358ھ (1939ء) میں۔ شاہ عبدالعزیز نے مکہ، جدہ اور مدینہ کی مطابع کے لیے کاغذ اور مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی معاف کرنے کا حکم بھی دیا۔
شاہ عبدالعزیز نے اپنے خرچ پر جو کتب شائع کروائیں، ان میں دینی، ادبی اور ورثے سے متعلق کتب کے علاوہ قرآن کریم کی تفاسیر بھی شامل تھیں۔ یہ کتب مطبعہ ام القری اور المطبعة السلفیہ (مکہ مکرمہ) کے علاوہ ہندوستان، مصر اور شام کی مطابع میں 1335ھ (1917ء) سے 1373ھ (1954ء) کے دوران شائع ہوئیں۔ اس عرصے میں 100 سے زائد کتب شائع ہوئیں، جن کی مجموعی تعداد ایک لاکھ نسخوں سے تجاوز کر گئی۔ ان میں سے بعض کتب ہندی، جاوی اور دیگر زبانوں میں بھی شائع ہوئیں اور بعض کی تحقیق بھی کی گئی۔

ان میں نمایاں کتب میں تاریخ ابن غنام (روضة الأفكار والأفهام لمرتاد حال الإمام)، دیوان عقود الجواهر المنضدة الحسان از سلیمان بن سحمان، ابن سحمان کی دیگر کتب جیسے الصواعق المرسلة الشهابية، تاریخ ابن کثیر (البداية والنهاية، 14 جلدیں)، المغنی از عبداللہ بن قدامہ، الشرح الکبیر از عبدالرحمن بن قدامہ، تفسیر الحافظ ابن کثیر، روضة المحبین ونزهة المشتاقین از امام ابن قیم الجوزیہ، ذکرى الكشافة العراقية (حج 1353ھ/1935ء)، کتاب التوحید واثبات صفات الرب از ابن خزیمہ (1353ھ/1935ء)، الشريعة از ابو بکر بن محمد بن حسن الآجری (1369ھ/1950ء) اور کتاب مجموعة التوحید شامل ہیں۔
مجلة 'الدارة' میں شائع اپنی تحقیق 'عناية الملك عبدالعزيز بنشر الكتب' میں استاد عبدالعزیز الرفاعی لکھتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز کے خرچ پر مصر میں کئی کتب شائع ہوئیں، جن میں تفسیر ابن جریر، تفسیر بغوی، المغنی، الشرح الکبیر اور دیگر کتب حدیث و توحید اور تفسیر الحافظ ابن کثیر شامل ہیں۔
الرفاعی مزید لکھتے ہیں: "شاہ عبدالعزیز کی کوششیں صرف ہندوستان اور مصر تک محدود نہ تھیں بلکہ شام تک بھی پہنچیں۔ ان کی اشاعت کردہ کتب میں 'روضة المحبين ونزهة المشتاقين' (امام ابن قیم الجوزیہ) بھی شامل ہے، جو دمشق کی مطبعة الترقي میں شائع ہوئی۔ الرفاعی اپنی تحقیق میں شاہ عبدالعزیز کے خرچ پر شائع ہونے والی 108 کتب کی فہرست بھی پیش کرتے ہیں۔"
شاہ عبدالعزیز کی یہ عظیم الشان علمی و ثقافتی بنیادیں مملکت کے قیام کے وقت اس کے ثقافتی تشخص کی بنیاد بنیں اور آج بھی سعودی عرب کی عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر ثقافتی و تہذیبی شناخت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

